Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام کی شخصیت

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

میں موجود تھے ۔ اس غزوہ میں ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام اپنے اصحاب کے ساتھ ایک سفر طے کر رہے تھے ۔ اچانک قبیلہ ھوازن نے کسی اشتعال کے بغیر تیروں کے ذریعہ ان پر حملہ کر دیا۔ اس اچانک حملہ کی وجہ سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ بیشتر لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ تاہم پیغمبر اسلام اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ اپنی جگہ بے خوفی کے ساتھ قائم رہے۔ اس وقت ہر طرف سے تیر آ رہے تھے۔ لیکن آپ اپنے خچر کے اوپر بیٹھے ہوئے یہ شعر پڑھ رہے تھے : انا النبی لا کذب انا ابن عبد المطلب یعنی میں خدا کا پیغمبر ہوں ، اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ، المجلد الثالث ، ٦٢٣) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام شجاعت و بہادری میں کمال درجہ پر تھے۔ ان کا سینہ خوف سے مکمل طور پر خالی تھا۔ تیروں کی بارش بھی ان کے اندر کوئی ترزل پیدا نہیں کر سکتی تھی۔ اپنی صداقت کے یقین نے انھیں آخری حد تک ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔ راحت نہیں پیغمبر اسلام ﷺ کی ایک حدیث ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا کہ : میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان چر چر آرہا ہے اور اس کے لئے سزاوار ہے کہ وہ چر چر ائے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ آسمان میں چار انگل جگہ بھی نہیں جہاں ایک فرشتہ اپنی پیشانی جھکائے ہوئے سر بسجدہ نہ ہو۔ خدا کی قسم اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ عورتوں کے ساتھ بستروں پر تمہارے لئے کوئی لذت نہ رہتی۔ اور تم اللہ کو پکارتے ہوئے پہاڑوں کی طرف نکل جاتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page