Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام کی شخصیت

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کے راوی ابوذر کہتے ہیں کہ کاش میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔ (احمد، الترمذی، ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح ۴۶۹/۳) یہ بظاہر دوسروں سے خطاب ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث خود پیغمبر اسلام کی اپنی نفسیاتی حالت کی تصویر ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے روز و شب کن احساسات میں بسر ہوتے تھے۔ ان کا ذہن کس قسم کی باتیں سوچتا تھا۔ ان کے پاس وہ سب سے بڑی خبر کیا تھی جس کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے وہ بیقرار رہتے تھے۔ قرآن کے مطابق، پیغمبر اسلام کو خدا نے یہ مشن سپرد کیا تھا کہ وہ انسان کو زندگی کی حقیقت بتائیں اور موت کے بعد سامنے آنے والی ہولناکیوں سے باخبر کریں۔ ایسے ایک انسان کے لئے دنیا راحت اور مسرت کی جگہ نہیں ہو سکتی۔ وہ ان چیزوں میں لذت نہیں لے سکتا جس میں بے خبر لوگ لذت محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ آپ مسلسل غم اور فکر میں مبتلا رہتے تھے ( کان متوالی الا حزان دائم الفکرۃ ) پیغمبر اسلام ﷺ نے ۲۵ سال کی عمر میں عرب کی ایک نیک بخت خاتون خدیجہ سے نکاح کیا۔ ان کے ساتھ آپ ایک پر مسرت ازدواجی زندگی گزار رہے تھے۔ یہاں تک کہ ۴۰ سال کی عمر میں آپ کو نبوت ملی۔ اس کے بعد گھر میں آئے تو آپ کی اہلیہ نے حسب معمول آپ کے لئے بستر بچھایا اور کہا کہ آپ یہاں آرام کیجئے۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اے خدیجہ اب آرام کہاں۔ ( این الراحة يا خديجة ) برابری کا احساس پیغمبر اسلام کے ایک صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ غزوہ بدر کے سفر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page