پیغمبر اسلام کی شخصیت
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ہم لوگ نکلے تو ہمارے پاس سواری کے لئے اونٹ بہت کم تھے۔ چنانچہ ایک اونٹ پر باری باری تین آدمی سوار ہوتے تھے۔ علی بن ابی طالب اور ابو لبابہ رسول اللہ کے ساتھ ایک اونٹ میں شریک تھے۔ پھر جب رسول اللہ کی باری نہ ہوتی تو وہ دونوں کہتے کہ اے خدا کے رسول آپ اونٹ پر سوار ہو جائیں۔ ہم آپ کے بدلے چلیں گے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ فرماتے کہ تم چلنے میں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور میں تم دونوں سے کم اجر کا حاجت مند نہیں ہوں۔ ( ماا انتما باقوىٰ على المشى منى وما انا باغنى عن الاجر منكما ) مسند الامام احمد بن حنبل ٤٢٢/١ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام علیه السلام جب لوگوں کے درمیان ہوتے تھے تو اس وقت ان کے احساسات کیا ہوتے تھے۔ پیغمبر ہونے کے باوجود وہ اپنے آپ کو دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان سمجھتے تھے۔ ان کا احساس یہ ہوتا تھا کہ جس طرح دوسرے لوگوں کو اجر و ثواب کی ضرورت ہے اسی طرح مجھے بھی اجر و ثواب کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے جس طرح دوسروں کو عمل کرنا چاہئے اسی طرح مجھے بھی اس کے لئے عمل کرنا چاہئے۔ وہ فخر یا برتری کے احساس سے آخری حد تک خالی تھے اور یہ سب حقیقی طور پر تھا نہ کہ مصنوعی طور پر۔ جس آدمی کو خدا کی حقیقی معرفت حاصل ہو جائے، اس کا حال ایسا ہی ہو جاتا ہے۔ خدا کی معرفت جب کسی کو حاصل ہوتی ہے تو وہ اس کو انسان اصل (man cut to size) بنا دیتی ہے۔ خدا کی بے پناہ عظمتوں کا ادراک اس سے ہر قسم کی بڑائی کا احساس چھین لیتا ہے۔ خدا کے مقابلہ میں چھوٹا ہونے کا احساس اس پر اتنا زیادہ طاری ہوتا ہے کہ بظاہر بڑا ہونے کے باوجود وہ اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھ پا تا۔ خدائے برتر کی گہری معرفت اس سے ہر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader