پیغمبر اسلام کی شخصیت
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
قسم کی بڑائی کا احساس چھین لیتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو صرف بندہ سمجھتا ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ پیغمبر اسلام ان احساسات میں کامل درجہ پر تھے، اس لئے بندگی کا احساس بھی ان کے اندر کامل درجہ میں پایا جاتا تھا۔ آخرت کی فکر ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام ایک بار اپنی ایک اہلیہ کے مکان میں تھے۔ ان کے یہاں ایک خادمہ تھی۔ آپ نے کسی فوری ضرورت کے تحت خادمہ کو باہر بھیجا۔ اس نے آنے میں دیر کی۔ معلوم ہوا کہ وہ راستہ میں بچوں کا کھیل دیکھنے کے لئے کھڑی ہو گئی تھی۔ خادمہ جب تاخیر کے ساتھ واپس آئی تو اس کو دیکھ کر آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار ظاہر ہو گئے۔ اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک مسواک تھی۔ آپ نے خادمہ سے کہا: لولا خشية القود لا وجعتك بهذا السواك (اگر قیامت میں بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تم کو اس مسواک سے مارتا) پیغمبر اسلام لوگوں کو قیامت کی پکڑ سے ڈراتے تھے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ڈرانا یکطرفہ نہ تھا۔ آپ جس طرح دوسروں کو آنے والی قیامت سے ڈراتے تھے اسی طرح آپ خود بھی اس سے ڈر محسوس کرتے تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ لوگ دنیا میں اس طرح رہیں کہ ان کے دل میں خدا کی پکڑ کا خوف سمایا ہوا ہو۔ یہی خود آپ کی اپنی حالت بھی تھی۔ آپ آنے والی قیامت کو اپنے سمیت ہر ایک کا مسئلہ سمجھتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ آپ کا پیغمبر ہونا آپ کو اخروی مسئولیت سے بے نیاز بنا دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader