پیغمبر اسلام کی شخصیت
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کا احترام قدیم مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ کچھ یہودی قبیلے بھی آباد تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام مدینہ کے ایک مقام پر تھے۔ اس وقت وہاں سے ایک جنازہ گزرا۔ آپ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازہ کو دیکھ کر آپ اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ اس وقت آپ کے کچھ صحابہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ دیکھ کر ایک صحابی نے کہا کہ اے خدا کے رسول یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: الیسٹ نفسا (کیا وہ انسان نہ تھا) صحیح البخاری، کتاب الجنائز، بحوالہ فتح الباری، جلد ۳ ص، ۲۱۴۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے دل میں دوسرے انسانوں کے بارے میں کس قسم کے جذبات ہوتے تھے۔ آپ ہر انسان کو انسان سمجھتے تھے۔ ہر انسان آپ کو قابل احترام نظر آتا تھا، خواہ وہ کسی قوم یا ملت سے تعلق رکھتا ہو۔ ہر انسان کو آپ خدا کی ایک مخلوق سمجھتے تھے۔ ہر انسان کے اندر آپ کو وہی کاریگری دکھائی دیتی تھی جو آپ کو خود اپنے وجود میں دکھائی دیتی تھی۔ انسان کو دیکھ کر آپ انسان کے خالق کو یاد کرنے لگتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے دل میں ہر انسان کے لئے محبت اور احترام کا جذبہ تھا۔ انسان سے نفرت کرنا آپ کے مزاج کے بالکل خلاف تھا۔ جذبہ انسانیت صحیح البخاری اور صحیح مسلم میں پیغمبر اسلام کا ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ آپ نے مدینہ کے ایک تاجر سے کچھ قرض لیا۔ بعد کو وہ اپنا قرض مانگنے کے لئے آپ کے پاس آیا۔ گفتگو میں اس نے تلخی اور شدت اختیار کی۔ یہاں تک کہ اس نے یہ کہا کہ عبدالمطلب کے خاندان کے لوگ سب کے سب ناد ہند ہوتے ہیں۔ تاجر کی اس قسم کی گفتگو سن کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader