پیغمبر اسلام کی شخصیت
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
صحابہ کو غصہ آگیا۔ انھوں نے چاہا کہ اس کو پکڑ کر ماریں۔ لیکن پیغمبر اسلام نے اس کو روک دیا۔ آپ نے فرمایا: دعوه فان لصاحب الحق مقالاً (اس کو چھوڑ دو کیوں کہ حقدار کو کہنے کا حق ہوتا ہے) ریاض الصالحین۔ ۳۳۵۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نزاعی معاملات میں پیغمبر اسلام کے جذبات کیا ہوتے تھے۔ اس طرح کے معاملات میں آپ صرف اپنے اعتبار سے نہیں سوچتے تھے بلکہ آپ فریق ثانی کو پوری رعایت دینے کے لئے تیار رہتے تھے۔ مذکورہ تاجر نے گفتگو کا جو انداز اختیار کیا وہ بلا شبہ ادب اور تہذیب کے خلاف تھا۔ اس نے آپ کی عزت اور وقار پر حملہ کیا۔ اس نے ایسی بات کہی جو عام طور پر لوگوں کی انا کو بھڑکانے کا سبب بن جاتی ہے۔ مگر آپ نے اپنے منصفانہ مزاج کے تحت ان تمام پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا۔ آپ نے اپنے جذبات کی رعایت کرنے کے بجائے صرف فریق ثانی کے جذبہ کی رعایت کی۔ آپ نے ہر دوسری بات کو بھلا کر صرف یہ سوچا کہ ایک شخص سے جب میں نے قرض لیا ہے تو اس کو یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اس کا تقاضا کرے حقائق پر اعتماد ۶ ھ میں پیغمبر اسلام اور مشرک سرداروں کے درمیان صلح کا وہ معاہدہ ہوا جس کو معاہدہ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ لمبی بات چیت کے بعد جب معاہدہ کی دفعات طے ہو گئیں تو پیغمبر اسلام نے اس کو کاغذ پر لکھوانا شروع کیا۔ حضرت علی بن ابی طالب اس کی کتابت کر رہے تھے۔ آپ نے کہا کہ هذا ما صالح علیه محمد رسول اللہ (سیرت ابن کثیر جلد ۳ ص، ۳۲۰) مشرک سردار نے اس پر اعتراض کیا۔ اس نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان یہی تو جھگڑا ہے کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader