پیغمبر اسلام کی شخصیت
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول مان لیں تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ اس لئے آپ اس طرح لکھئے کہ ھذا ما صالح علیه محمد بن عبدالله۔ آپ فوراً اس پر راضی ہو گئے۔ حضرت علی نے آپ سے کہا کہ میں معاہدہ کے کاغذ سے محمد رسول اللہ کا لفظ نہیں مٹا سکتا۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام نے کاغذ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور رسول اللہ کے لفظ کو مٹادیا۔ اس کے بعد حضرت علی سے آپ نے کہا کہ اب یہاں محمد بن عبداللہ لکھ دو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ (ص، ۳۲۱) پیغمبر اسلام کی اصل حیثیت یہی تھی کہ وہ اللہ کے رسول تھے۔ آپ کا پورا مشن آپ کے اسی دعوے پر کھڑا ہوا تھا۔ رسول اللہ کے لفظ کو مٹانا گویا اپنی اصل شناخت کو مٹادیینے کے ہم معنی تھا۔ یہ ایک بے حد نازک معاملہ تھا۔ رسول اللہ کا لفظ مٹانے کا مطلب لوگوں کو یہ کہنے کا موقع دینا تھا کہ آپ کو خود اپنی شناخت کے بارے میں شک ہے۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق غصہ کی حالت میں حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور کہا: أليس برصول الله (ص، ۳۲۰) یعنی کیا وہ خدا کے رسول نہیں ہیں۔ لیکن پیغمبر اسلام نے ان باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ایک ایسے بلند انسان تھے جو حقائق میں جینے والا ہو، جو ظواہر سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو دیکھ سکے۔ اپنی اسی نفسیات کی بنا پر آپ محسوس کر رہے تھے کہ کاغذ پر خواہ جو بھی لکھا جائے مگر آخر کار جو چیز غالب رہے گی وہ حقیقت ہے۔ آپ کا یہ غیر متزلزل یقین کہ میں خدا کا رسول ہوں، یہی اس بات کے لئے کافی تھا کہ آپ ایک ایسی چیز کو کوئی اہمیت نہ دیں جو خود حقائق کے زور پر ایک دن مٹ کر رہ جائے گی، کوئی نہ اس کا حامی ہوگا اور نہ کوئی اس کا وکیل۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader