Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام کی شخصیت

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

غیر مصالحانہ انداز روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام پر قبل از وقت بڑھاپے کے آثار دیکھ کر بعض صحابہ نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول کس چیز نے آپ کو بوڑھا کر دیا (یا رسول الله ما شيبك) آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ مجھ کو ہود اور اس کی مثل سورتوں نے بوڑھا کر دیا۔ (شیبتنی هود واخواتها) تفسیر ابن کثیر ۴۳۵/۲۔ سورہ ہود میں وہ کون سی بات ہے جس نے آپ پر اتنا غیر معمولی اثر ڈالا کہ آپ قبل از وقت بوڑھے دکھائی دینے لگے۔ اس کا اندازہ سورہ ہود کی آیت نمبر ۱۱۳ سے ہوتا ہے۔ ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار ومالكم من دون الله من اولياء ثم لا تنصرون اور ان کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تم کو آگ پکڑلے گی اور اللہ کے سوا تمہار ا کوئی مددگار نہیں۔ اس آیت میں اس وقت کا ذکر ہے جب کہ پیغمبر اسلام نے اپنی دعوت کھول کھول کر بیان کر دی، اس کے باوجود آپ کے مخاطبین کی اکثریت اس کو ماننے پر راضی نہ ہوئی۔ خاص طور پر سردار اور پیشوا اس کے انکار پر مصر رہے ایسے وقت میں یہ احساس ابھرتا ہے کہ لوگوں کو اپنے قریب لانے کے لئے دعوت کے نکات میں کسی قدر تبدیلی کرلی جائے، تاکہ وہ مخاطبین کے لئے قابل قبول ہو جائے۔ اسی چیز کو مذکورہ آیت میں رکون (جھکاؤ) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام کو اس قسم کے جھکاؤ سے شدت کے ساتھ روک دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کو دعوت کے سلسلے میں جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے وہ حق کا بے آمیز اعلان ہے اور جھکاؤ یا مصالحت کی صورت میں حق کا بے آمیز اعلان نہیں کیا جا سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page