پیغمبر اسلام کی شخصیت
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی وہ چیز ہے جس نے پیغمبر اسلام کو قبل از وقت بوڑھا بنا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں حق کی مصالحانہ پیغام رسانی انتہائی آسان کام ہے۔ اس کے مقابلہ میں حق کی بے آمیز پیغام رسانی انتہائی مشکل کام۔ مصالحانہ پیغام رسانی میں آدمی کو مقبولیت ملتی ہے، اور بے آمیز پیغام رسانی میں آدمی لوگوں کی نظر میں غیر محبوب بن جاتا ہے۔ مصالحانہ پیغام رسانی میں راستے ہر طرف کھلے ہوئے نظر آتے ہیں، اور بے آمیز پیغام رسانی میں کھلے ہوئے راستے بھی بظاہر بند ہو جاتے ہیں۔ مصالحانہ پیغام رسانی اگر ہموار راستہ پر سفر کرنا ہے تو بے آمیز پیغام رسانی کانٹوں اور پتھروں کے درمیان سفر کرنا ہے۔ پیغمبر اسلام محسوس فرماتے تھے کہ حق کا اعلان صرف وہی ہے جو بے آمیز اعلان ہو، آمیزش والا اعلان سرے سے حق کا اعلان ہی نہیں۔ اس معاملہ کی یہی سنگینی تھی جس نے آپ کو اتنا زیادہ متاثر کیا کہ آپ قبل از وقت بوڑھے دکھائی دینے لگے۔ فتح کے باوجود مکہ پیغمبر اسلام کا وطن تھا۔ مگر وہاں کے لوگوں نے آپ کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد ظلم اور تشدد اور سرکشی کی تقریباً ۲۰ سالہ تاریخ ہے جس سے آپ کو مجبورانہ طور پر گزرنا پڑا۔ آخر کار حالات بدلے اور رمضان ۸ھ میں مکہ فتح ہو گیا۔ جس شہر سے آپ مظلومانہ نکلے تھے اسی شہر میں آپ دوبارہ فاتحانہ داخل ہوئے۔ مگر اس وقت آپ کے دل کی جو کیفیت تھی وہ اس سے بالکل مختلف تھی جو عام فاتحین کے یہاں نظر آتی ہے۔ دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ مکہ میں داخلہ کے وقت آپ ایک اونٹ پر سوار تھے۔ حالت یہ تھی کہ آپ اس وقت سراپا تواضع بنے ہوئے تھے۔ اللہ کی غیر معمولی نصرت کے احساس نے آپ کو جھکا دیا تھا۔ یہاں تک کہ آپ کی داڑھی اونٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader