Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام کی شخصیت

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

کے کجاوے کو چھونے لگی۔ (سیرت ابن ہشام۔۴/ ۲۴) روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ میں داخل ہو کر آپ کعبہ کے دروازہ پر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنے وعدہ کو پورا کر دیا، اور اپنے بندے کی مدد فرمائی، اور مخالف گروہوں کو تنہا شکست دے دی۔ لا اله الا الله وحده، لا شريك له، صدق وعده، ونصر عبده، وهزم الاحزاب وحده (ص، ۳۳) فتح وہ موقع ہے جب کہ لوگ خوشی مناتے ہیں، فخر کرتے ہیں، اپنی کامیابی کا جشن مناتے ہیں۔ اس قسم کی باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جن کی نظر اپنے آپ پر ہوتی ہے۔ جو فتح کو خود اپنا ایک کارنامہ سمجھتے ہیں۔ لیکن پیغمبر اسلام کی نفسیات اس سے بالکل مختلف تھی۔ ان کے لئے فتح کا واقعہ ان کا اپنا کارنامہ نہ تھا۔ وہ مکمل طور پر خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والا واقعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا واقعہ جو بظاہر ان کا اپنا کارنامہ تھا، اس کو انھوں نے مکمل طور پر خدا کے خانہ میں ڈال دیا۔ ایک دعا حدیث کی کتابوں میں پیغمبر اسلام کی بہت سی دعائیں نقل کی گئی ہیں۔ یہ دعائیں پیغمبر اسلام کی اندرونی شخصیت کو بتاتی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے سینہ میں کس قسم کے احساسات کا طوفان برپا رہتا تھا۔ ان کے اندر کی دنیا کس قسم کے جذبات و خیالات سے ہمیشہ آباد رہتی تھی۔ ان میں سے ایک دعا وہ تھی جو ان الفاظ میں آپ کی زبان سے نکلتی تھی: اللهم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه وارنا الاشياء كماهی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page