پیغمبرانہ پالیسی
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ پتے آپ نے کیا کہ رات کے وقت مکان کے پچھلے دروازہ نے خاموشی کے ساتھ نکلے اور مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ عام ذوق کے مطابق یہ عزیمت کو چھوڑ کر رخصت کا طریقہ اختیار کرنا تھا۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ جوش کے بجائے ہوش کا طریقہ اختیار کرنا تھا۔ ایسے موقع پر کوئی شخص لڑ کر شہید ہو جائے تو اس نے عزیمت کا فعل نہیں کیا بلکہ اس نے نادانی کا فعل کیا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے یہ کیا کہ غیر ضروری ٹکراؤ سے بچ کر آپ مدینہ پہنچ گئے تاکہ اپنی دعوتی مہم کو زیادہ مؤثر طور پر جاری رکھ سکیں۔ اسلام میں سر کٹانا نہیں ہے بلکہ سر کو بچانا ہے۔ اسلام میں زندگی کو مٹانا نہیں ہے بلکہ زندگی کو عمل خیر میں استعمال کرنا ہے۔ اسلام ایک فطری دین ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم حقیقت پسندی ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی پالیسی کو ایک لفظ میں کہنا ہو تو اس کو حقیقت پسندانہ پالیسی کہا جا سکتا ہے۔ اس معاملہ میں اسلام میں یہاں تک رعایت رکھی گئی ہے کہ اپنی قیمتی جان کو بچانے کے لئے بظاہر خلاف واقعہ بات کہنا پڑے تو اس سے بھی آدمی کو گریز نہیں کرنا چاہئے۔ وقتی دباؤ کے تحت خلاف واقعہ بات کہہ کر اپنے وجود کو بچانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ آدمی غیر ضروری اکڑ دکھائے اور ”سچ“ کہنے کے جوش میں اپنے وجود کو بے فائدہ طور پر ہلاک کر ڈالے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader