پیغمبرانہ پالیسی
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
مکی دور کا ایک واقعہ اس سلسلہ میں ایک انتہائی مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ واقعہ عمار بن یاسر سے متعلق ہے جو کہ اس وقت مکہ کے ایک مشرک سردار کے غلام تھے۔ مکی دور میں ایمان لانے والوں میں جو لوگ آزاد خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے وہ مشرکین کی شدید ایذاؤں سے محفوظ رہے۔ کیونکہ ان کا قبیلہ ان کی حمایت کرنے کے لئے موجود تھا۔ لیکن جو لوگ وہاں کے سماج میں غلام کی حیثیت رکھتے تھے۔ پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا، وہ اپنے آقاؤں کی طرف سے ناقابل برداشت ایذا رسانی کا شکار بنائے گئے۔ انہی میں سے ایک عمار بن یاسر بھی تھے۔ عمار بن یاسر کو ان کے مشرک آقا نے شدید تکلیف پہنچائی اور کہا کہ جب تک تم ہمارے بتوں کو نہیں مانو گے اور محمد کا انکار نہیں کرو گے ہم تمہیں ستاتے رہیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے وہ خلاف حق الفاظ کہہ دیئے جو مشرکین ان سے کہلوانا چاہتے تھے۔ اس کے بعد وہ رسول اللہ کے پاس آئے اور کہا کہ میں نے مشرکین کے مطالبہ پر ایسا اور ایسا کہہ دیا۔ آپ نے پوچھا کہ تمہارے دل کا حال کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میرا دل اسلام کی سچائی پر پوری طرح مطمئن ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ مشرکین اگر تم سے دوبارہ وہ بات کہلائیں تو دوبارہ کہہ دو ( ان عادوا فعد ) تفسیر ابن کثیر ۵۸۷-۵۸۸ قرآن کے مطابق، پیغمبر اسلام تمام انسانوں کے لئے نمونہ ہیں (الاحزاب ۲۱) جب اللہ تعالی نے آپ کو انسانوں کے لئے نمونہ بنایا تو ضروری تھا کہ آپ ایک بشر کی حیثیت سے دنیا میں زندگی گزاریں اور آپ پر وہ تمام احوال گذریں جو عام حالات میں انسانوں پر گزرتے ہیں۔ یا جو ایک عام انسان کے لئے قابل عمل ہیں۔ اگر ایسا ہو کہ رسول اللہ کو ہر وقت فرشتوں کی طاقت حاصل ہو اور وہ فوق البشر انداز میں پیش آمدہ معاملات کا مقابلہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader