Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبرانہ پالیسی

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

کریں تو وہ عام انسان کے لئے نمونہ نہیں بن سکتے۔ ایسی حالت میں یہ تکلیف مالا طاق ہو گا کہ لوگوں سے کہا جائے کہ تم اس رسول کی پیروی کرو جو تمہاری طرح نہیں۔ بلکہ اس کو غیر معمولی طاقتیں حاصل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پوری زندگی میں اس بات کا لحاظ فرمایا کہ عام حالات میں کسی انسان کے لئے کیا چیز قابل عمل ہے اور کیا چیز قابل عمل نہیں۔ جو چیز ایک عام انسان کے لئے ممکن اور قابل عمل تھی آپ نے اس پر عمل فرمایا اور جس چیز پر عمل کرنا عام انسان کے لئے ممکن نہ تھا اس کو ترک کر دیا۔ کسی مسئلے کو حل کرنے کے لئے ہمیشہ دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ عملی حالات کی رعایت کرتے ہوئے اپنے اقدام کا منصوبہ بنایا جائے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ نتیجہ کی پرواہ کئے بغیر اس کے خلاف پر جوش اقدام کر دیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کی تئیس سالہ زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے کبھی بھی دوسرا طریقہ اختیار نہیں فرمایا۔ آپ ہمیشہ پہلے طریقہ پر کار بند رہے۔ مثال کے طور پر آپ کے زمانے میں کعبہ (بیت اللہ) کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ کا مشن یہ تھا کہ کعبہ کو ان بتوں سے پاک کیا جائے۔ آپ تیرہ سال مکہ میں رہے لیکن آپ نے کبھی ان بتوں کو توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ یہاں تک کہ اسی حالت پر تقریباً میں سال گزر گئے ۔ بیس سال تک آپ نے ان بتوں کے معاملے میں صرف قولی دعوت پر اکتفا فرمایا۔ بیس سال بعد جب مکہ فتح ہوا اس وقت آپ نے عملی کارروائی کر کے کعبہ کو بتوں سے پاک کر دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے قابل عمل اور نا قابل عمل کے درمیان فرق فرمایا۔ ہیں سال تک بتوں کے خلاف صرف قولی تبلیغ قابل عمل تھی، اس لئے آپ قول کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page