Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبرانہ پالیسی

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

حد میں رہ کر اپنا کام کرتے رہے۔ فتح مکہ کے بعد کعبہ کی عملی تطہیر قابلِ عمل ہو گئی، اس لئے آپ نے عملی اقدام کر کے اس کی تطہیر فرمادی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نتیجہ خیز اقدام اور غیر نتیجہ خیز اقدام میں فرق کرنا بھی رسول اللہ ﷺ کی ایک اہم سنت ہے۔ فرق کا اصول پیغمبر اسلام کی سیرت کے مطالعہ سے ایک اہم اصول وہ معلوم ہوتا ہے جس کو فرق کہا جا سکتا ہے۔ یعنی ایک چیز اور دوسری چیز میں فرق کو سمجھنا اور اس کے مطابق دونوں سے الگ الگ معاملہ کرنا۔ اس کی اصل قرآن کی سورۃ البقرہ آیت نمبر ۲۷۵ میں موجود ہے۔ یہ فرق فطرت کا ایک اصول ہے اور اس اصول کا لحاظ پیغمبر اسلام کی پالیسیوں میں کامل طور پر پایا جاتا ہے۔ ۱۔ ان میں سے ایک قول اور عمل کا فرق ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ افضل جہاد ظالم حکمراں کے سامنے حق وانصاف کی بات کہنا ہے (افضل الجهاد كلمة عدل عند امير جائر) سنن ابی داود ۱۲۲/۴ دوسری طرف حدیث میں کثرت سے اس قسم کی ہدایات آئی ہیں کہ حکمراں اگر ظالم ہو جائیں تب بھی تم ان کی اطاعت کرو اور ان سے ہرگز ٹکراؤ نہ کرو (مشکاة المصابیح (۱۲۸۳/۳ مثلاً حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بعد کے زمانے میں حکمراںوں میں بگاڑ آجائے گا حتی کہ تمہارے اوپر ایسے لوگ حکمراں بن جائیں گے جن کا جسم بظاہر انسان جیسا ہوگا مگر ان کے دل شیطان کی مانند ہوں گے۔ حضرت حذیفہ نے پوچھا کہ ہم ان کے مقابلے میں کیا کریں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے حاکم کی بات سنو اور اس کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page