پیغمبرانہ پالیسی
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
اطاعت کرو، خواہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں اور تمہارا مال تم سے لے لیا جائے پھر بھی تم سنو اور اطاعت کرو (قال: تسمع وتطيع للامير وان ضرب ظهرك واخذ مالك فاسمع واطع) صحیح مسلم بشرح النووی ۲۳۸/۱۲ مذکورہ دونوں حدیثوں کا تقابلی مطالعہ کیجئے۔ پہلی حدیث میں ظالم حکمراں کے مقابلہ میں جہاد کی ترغیب دی گئی ہے جب کہ دوسری حدیث میں شدت کے ساتھ جہاد سے منع کیا گیا ہے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ پہلی حدیث کا تعلق قولی نصیحت سے ہے اور دوسری حدیث کا تعلق عملی ٹکراؤ سے۔ حدیث کے مطابق، قولی نصیحت ایک مطلوب عمل ہے مگر عملی ٹکراؤ سراسر غیر مطلوب عمل۔ یہاں قولی نصیحت سے مراد حکمرلاں کے خلاف مظاہرہ اور تقریر اور اخباری بیان نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کوئی شخص جب حکمرلاں کے اندر کوئی بگاڑ دیکھے تو وہ اس کے حق میں دعا کرے اور پھر اس سے وقت لے کر اس سے تنہائی میں ملے اور درد مندی اور خیر خواہی کے انداز میں اس کو سمجھانے کی کوشش کرے ۔ عبداللہ بن عباس سے پوچھا گیا کہ حاکم کے سامنے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کس طرح کیا جائے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہو تو اس طرح تنہائی میں کرو کہ وہ بس تمہارے اور اس کے درمیان ہو (ففيما بينك و بينه) جامع العلوم والحکم ۷۱ ۲-- اسی طرح اسلام میں انفرادی عمل اور اجتماعی عمل کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ انفرادی اقدام میں ایک شخص کی زندگی خطرہ میں ہوتی ہے، جب کہ اجتماعی اقدام میں ہزاروں آدمی کی زندگی خطرہ میں آ جاتی ہے۔ اسی لئے یہ عین فطری بات ہے کہ دونوں کا حکم یکساں نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader