Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبرانہ پالیسی

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

ہجرت کے واقعہ میں اس معاملہ میں ایک رہنما مثال پائی جاتی ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ عمر بن الخطاب نے جب مکہ سے مدینہ کے لئے ہجرت کی تو انہوں نے یہ کیا کہ اپنی تلوار کو اور تیر کمان کو لیا، اور پھر کعبہ میں آئے۔ قریش کے سردار اس وقت کعبہ کے صحن میں موجود تھے۔ انہوں نے کعبہ کا طواف کیا اور دو رکعت نماز پڑھی پھر وہ اشراف قریش کے حلقوں کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ تم میں جو شخص اپنی بیوی کو بیوہ اور اپنے بچوں کو یتیم کرنا چاہے وہ شہر کے باہر مجھ سے ملے۔ اس طرح وہ ہجرت کے لئے روانہ ہوئے اور کسی نے ان کا پیچھا نہیں کیا (حياة الصحابه ۵۲۱/۱) دوسری طرف رسول اللہ ﷺ نے برعکس طور پر خفیہ انداز میں ہجرت کی۔ جیسا کہ معلوم ہے، مکی دور کے تیرھویں سال قریش کے سرداروں نے دار الندوة میں آپ کے خلاف مشورہ کیا۔ اس کے بعد تلواروں سے مسلح ہو کر رات کے وقت آپ کے مکان کو گھیر لیا۔ آپ نے ان سے مقابلہ نہیں کیا بلکہ رات کے اندھیرے میں خاموشی سے نکل کر باہر چلے آئے۔ اس معاملے میں آپ نے اتنی زیادہ رازداری برتی کہ آپ کو مکہ سے مدینہ جانا تھا مگر مدینہ کے رخ پر جانے کے بجائے الٹی طرف جا کر غار ثور میں تین دن تک چھپے رہے اور پھر عام راستے کو چھوڑ کر غیر معروف راستے سے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے وغیرہ۔ اس فرق کو دیکھتے ہوئے بعض سیرت نگاروں نے یہ سوال کیا ہے کہ: لما ذاها جر عمر علانية متحديا المشركين دون اى خوف ووجل علی حين هاجر رسول الله مستخفيا محتاطا لنفسه؟ ايكون عمر بن الخطاب اشد جراة من النبي عليه الصلاة السلام (فقه السيرة ١٤٤) کیوں عمر نے اعلان کے ساتھ اور مشرکین کو چیلنج دیتے ہوئے ہجرت کی، بغیر کسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page