Urdu book · مطالعۂ سیرت

جنگ پر بیعت نہیں

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

جنگ پر بیعت نہیں امن ایک ایجابی اہمیت کی چیز ہے۔ جبکہ جنگ کی کوئی ایجابی اہمیت نہیں۔ جنگ تمام تر ایک سلبی نوعیت کی چیز ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ امن انسانی معاشرہ کی ایک مستقل ضرورت ہے۔ جنگ صرف وقتی طور پر بطور دفاع مطلوب ہو سکتی ہے۔ وہ بھی ہمیشہ نہیں بلکہ صرف اس وقت جب کہ امن کی برقراری کی ہر ممکن تدبیر ناکام ہو چکی ہو۔ اور مقابلہ کے سوا کوئی اور صورت سرے سے باقی ہی نہ رہے۔ امن و جنگ کا یہ فرق اتنا قطعی ہے کہ ہر مذہب میں اس کو مستقل اصول کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں کسی مذہب کا کوئی استثناء نہیں۔ اسلام جو ایک غیر محرف مذہب ہے، اس میں بھی امن و جنگ کے بارہ میں یہی تصور پایا جاتا ہے جو اوپر بیان ہوا۔ چنانچہ قرآن میں الصلح خیر (صلح بہتر ہے) کی آیت نازل ہوئی۔ مگر قرآن میں کہیں بھی الحرب خیر (جنگ بہتر ہے) کے مفہوم کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ اسی طرح لا تتمنوا لقاء العد و واسألو الله العافية کی حدیث موجود ہے۔ مگر اس کے برعکس اس مفہوم کی کوئی حدیث موجود نہیں کہ لوگو دشمن سے جنگ کے متمنی بنو اور اللہ سے حرب و ضرب کی دعا کرو۔ یہ بات قرآن و حدیث میں نہایت واضح ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ایک طبقہ ظاہر ہوا ہے جو اپنے آپ کو اسلام پسند کہتا ہے مگر زیادہ صحیح طور پر اس کا نام جنگ پسند ہونا چاہئے کیوں کہ انہیں جنگ کی باتیں کرنا بہت پسند ہے۔ انھوں نے اقبال کو اپنا ہیرو بنایا ہے جس نے شاعرانہ تخیل کے تحت کہا تھا: خودی ہے تیغ فساد لا الٰہ الا اللہ اگرچہ اپنی ذات کے لئے یہ لوگ بھی پوری طرح امن پسند ہیں۔ ان کا اصول ہے: جنگ نہ کرو البتہ جنگ کی باتیں خوب کرو۔ وہ خود اپنی ایک انگلی بھی کٹانا نہیں چاہتے مگر اپنی تقریر و تحریر میں رکٹانے کو خوب گلورینائی کرتے ہیں۔ اپنی اس دو عملی کے نتیجہ میں وہ خود تو ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔ البتہ سادہ لوح مسلمان ان کی باتوں سے متاثر ہو کر مارے جاتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page