Urdu book · مطالعۂ سیرت

جنگ پر بیعت نہیں

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ اسلام کی امن پسندی کی نہایت اعلیٰ مثال ہے۔ مگر ان جنگ پسند حضرات نے صلح حدیبیہ میں بھی جنگ کا اصول دریافت کر لیا ہے۔ وہ بیعت الرضوان کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ دیکھو صلح حدیبیہ بھی جنگ کے منصوبے سے خالی نہیں۔ مگر یہ حوالہ نہایت غلط اور بے بنیاد ہے۔ سیرت اور حدیث کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بیعت الرضوان کی جنگ کی بیعت نہیں تھی، بلکہ عدم فرار کی بیعت تھی۔ یہ بیعت حدیبیہ کے سفر میں پیش آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ سے سفر کے لئے نکلے تو اس وقت آپ نے اعلان فرمایا تھا کہ ہم جنگ کے لئے نہیں جا رہے ہیں، بلکہ عمرہ کے لئے جا رہے ہیں۔ حدیبیہ کے قیام میں بھی آپ نے بتکرا یہ واضح فرمایا کہ ہمارا مقصد ہرگز جنگ نہیں ہے۔ بلکہ صرف زیارت کعبہ ہے۔ ایسی حالت میں حدیبیہ پہنچ کر جنگ کی بیعت لینے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ پھر بیعت الرضوان کی حقیقت کیا تھی۔ اس کے سلسلہ میں اس کا مختصر تاریخی پس منظر بیان کرنا ہوگا۔ بیعت الرضوان (۶ھ) اسلامی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے جو حدیبیہ کے ضمن میں پیش آیا۔ یہ سفر اصلا عمرہ کرنے کے لئے ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا۔ اس وقت قریش سے آپ کی صلح کی بات چیت شروع ہوئی۔ اس دوران آپ نے حضرت عثمان بن عفان کو اپنا سفیر بنا کر قریش کے پاس بھیجا تاکہ وہ اہل مکہ کو بتائیں کہ آپ مکہ میں صرف عبادت کے لئے داخل ہونا چاہتے ہیں نہ کہ جنگ اور تکبرأؤ کے لئے۔ قریش اس بات پر راضی نہیں ہوئے۔ انھوں نے حضرت عثمان کو اپنے یہاں روک لیا۔ جب آپ کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو مشہور ہوگیا کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا ہے۔ یہ خبر بے حد غیر معمولی تھی۔ چنانچہ اس کو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چودہ سو اصحاب کو جمع کیا اور ان سے بیعت لی اسی کا نام بیعت الرضوان ہے۔ یہ بیعت کس بات پر تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت پر بیعت لی ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ، جو خود اس بیعت میں شریک تھے، انھوں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page