Urdu book · مطالعۂ سیرت

جنگ پر بیعت نہیں

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

تردید کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے موت پر بیعت نہیں لی۔ بلکہ اس بات پر بیعت لی کہ ہم بھاگیں گے نہیں (ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم يبايعنا على الموت ولكن بايعنا على ان لا نفرُ )، البدایہ والنھایہ ۱۶۸/۴ تمام سیرت نگاروں نے بیعت الرضوان کا یہی مفہوم لیا ہے۔ الفاظ اور سیاق کے مطابق اس کا کوئی اور مفہوم نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ابن قیم نے اپنی مشہور کتاب زاد المعاد میں بیعت الرضوان کے تذکرہ کے تحت یہ الفاظ لکھے ہیں: فبايعوه على ان لا يفروا۔ روایات میں آتا ہے کہ اس کے بعد قریش مکہ نے سہیل بن عمرو کو اپنا سفیر بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ سہیل بن عمرو ایک اعتدال پسند آدمی تھے اور بعد کو انھوں نے اسلام بھی قبول کر لیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سہیل کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ مطمئن ہو گئے اور فرمایا کہ قریش نے جب سہیل کو گفت و شنید کے لئے بھیجا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صلح چاہتے ہیں۔ حد میبیہ کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کامل امن پسندی کا مظاہرہ کیا۔ فریق ثانی کی اشتعال انگیزی کے باوجود آپ مشتعل نہیں ہوئے۔ ٹکراؤ کے ہر موقع سے یک طرفہ طور پر اعراض کرتے رہے۔ مثلاً دوران سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ قریش کا ۲۰ سواروں کا دستہ مکہ سے روانہ ہو کر آپ کی طرف آ رہا ہے۔ آپ کو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے اصحاب سے یہ نہیں فرمایا کہ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ بلکہ آپ نے اپنا راستہ بدل دیا۔ اس طرح قریش کی فوج سے ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔ اپنی جماعت کے سب سے زیادہ نرم مزاج آدمی کو اس سفارت کے ساتھ بھیجا کہ ہم صلح کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پھر جب قتل کی خبر ملی اس وقت بھی آپ نے ایسا نہیں کیا کہ خبر ملتے ہی قریش کے اوپر ٹوٹ پڑیں۔ بلکہ اپنے مقام پر بیٹھ کر لوگوں سے صرف اس بات کی بیعت لی کہ ہم یہیں جے رہیں گے۔ قریش اگر خود سے لڑنے کے لئے آتے ہیں تو مت لڑو بلکہ کریں گے۔ اور اگر وہ صلح پر راضی ہوتے ہیں تو صلح کر لیں گے۔ خواہ یہ صلح یکطرفہ شرطوں پر کیوں نہ ہو، جیسا کہ آپ نے عملاً کیا۔ بیعت الرضوان کے باوجود صلح کر لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بیعت اصلًا جنگ کے لئے نہ تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page