Urdu book · نئے عہد کے دروازہ پر

نئے عہد کے دروازہ پر

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف دو گھنٹے میں حل کیا، وہ اتنا بڑا تھا کہ اسے حل کرنے میں ریاضی کے دو تربیت یافتہ ماہروں کو 50 برس تک کام کرنا پڑتا۔ مگر خود انسانی زندگی کے مسائل وہ اب تک حل نہ کرسکا۔ ہرنیا’’ازم‘‘ (ism) جو ایجاد کیا جاتا ہے، وہ مسائل زندگی کو کچھ اور الجھا دیتا ہے۔ اس نے سمندروں میں راستے بنائے، جن پر جہاز سفر کرتے ہیں۔ اس نے لوہے کی پٹریاں بچھائیں، جن پر ریلیں دوڑتی ہیں۔ اس نے تار اور بے تار برق کا وہ عظیم سلسلہ قائم کیا جس پر انسان کی آواز اپنا راستہ بھولے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہے۔ مگر خود انسانی زندگی کے لیے راہ عمل کیا ہو، وہ کس سمت میں چلے اور کس سمت جانے سے بچے، اس کا کوئی واضح نقشہ ابھی تک اسے نہیں ملا۔ اس نے ایسے اسٹیشن قائم کیے، جو فضا میں اڑنے والے ہوائی جہازوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ مگر انسان کو کنٹرول کرنے والا کوئی نظام وہ ابھی تک دریافت نہ کرسکا۔ اس نے ایسے قوانین بنائے، جو آٹومیٹک ٹیلی فون ایکسچینج (automatic telephone exchange) کے اندر لاکھوں کی تعداد میں پھیلے ہوئے تار کو نہایت باقاعدگی کے ساتھ باہم جوڑتے رہتے ہیں، مگر وہ ایک گھر کے دو قریب ترین آدمیوں کو بھی ایک رشتے میں باندھنے کا اصول معلوم نہ کرسکا۔ اور حالت یہ ہے کہ آج ایک عورت کسی مرد سے نکاح کرتی ہے اور کل اس لئے وہ طلاق لے لیتی ہے کہ رات کو مرد کے خراٹے کی آواز اسے پسند نہیں آئی۔ سفر اور مواصلات (communication) کے جدید ترین ذرائع نے ساری دنیا کو ایک کر دیا ہے۔ آپ ہوائی جہاز سے اڑ کر چند گھنٹوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ ایک شخص نیو یارک میں ٹیلی فون اٹھا کر دنیا کے کسی بھی ملک کے آدمی سے بات کر سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود دریاؤں اور پہاڑوں کی حد بندی سے انسانیت آزاد نہیں ہوئی۔ سمندر کی مچھیاں اٹلانٹک (Atlantic Ocean) سے بحر الکاہل (Pacific Ocean) اور بحر ہند (Indian Ocean) تک سفر کرتی ہیں اور ان میں کوئی جنگ برپا نہیں ہوتی۔ فضا کی چڑیاں ایک موسم ایشیا میں گزارتی ہیں اور دوسرے موسم میں وہ یورپ چلی جاتی ہیں۔ مگر ایک ملک کا آدمی دوسرے ملک کے لئے اجنبی کی حیثیت رکھتا ہے اور ایک قوم دوسری قوم کو ہڑپ کر لینا چاہتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page