نئے عہد کے دروازہ پر
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
اور چین کے لیے قابل قبول ہے، جو اشتراکی (socialist) جماعتوں کے ذریعہ دنیا بھر میں اپنا جال بچھائے ہوئے ہیں، اور اپنے تو سیعی ارادوں (programme of expansion) کے لیے جنگ سے زیادہ امن کے موسم کو مفید خیال کرتے ہیں۔ امریکہ اور دوسرے جمہوری ممالک اس کو کسی طرح گوارا نہیں کر سکتے۔ کوئی صاحب فرماتے ہیں کہ دنیا کو امن اور جنگ میں سے ایک راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ دو میں سے کوئی ایک ہی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مگر آپ وہ کون سا اصول پیش کر رہے ہیں، جس سے دنیا تباہی کے بجائے امن کی راہ اپنائے۔ سوچیئے! کیا اس طرح کی باتیں حالات کو درست کر سکتی ہیں۔ دنیا سائنس کی حیرت انگیز دریافتوں سے زندگی حاصل کرنے کے بجائے خود کشی کا سامان تیار کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ کیا یہ محض اس لیے ہے کہ اب تک کسی نے اس کے سامنے مذکورہ بالا قسم کی کوئی تجویز پیش نہیں کی تھی۔ اگر کوئی شخص ایسا سمجھتا ہے، تو وہ بہت بڑے دھو کے میں مبتلا ہے۔ یہ خوفناک صورت حال جو دنیا میں پیدا ہوگئی ہے، اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ آدمی ایک صحیح نظام کے بغیر زندگی گزار رہا ہے۔ اس کو لوہے اور بجلی کی سائنس تو آگئی۔ اس نے وہ علم تو حاصل کر لیا، جس سے وہ مادے (matter) کے جوہر (atom) کو پھاڑ سکے مگر خود اپنی سائنس سے وہ اب تک محروم ہے۔ سمندروں میں تیرنا اور فضا میں اڑنا اس نے سیکھ لیا، مگر وہ فن (art) اس نے نہیں جانا جس سے زندگی کی گاڑی چلا کرتی ہے، جس سے انسانی کوششوں کا رخ متعین ہوتا ہے، جو ایک انسان اور دوسرے انسان، ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان حقوق وفرائض کا صحیح تعین کرتے ہیں۔ اس نے اتنی بڑی بڑی دوربینیں (telescopes) ایجاد کیں، جن کا حال یہ ہے کہ وہ 18 ہزار میل کے فاصلے پر جلتی ہوئی ایک موم بتی کو بھی دیکھ لیتی ہیں۔ مگر خود انسان کیا ہے اور دنیا کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کو وہ اب تک نہ جان سکا۔ اس نے ایسی حسابی مشین (Eniac) بنائی، جو گھٹانے اور جوڑنے کے 10 ملین سوالات صرف پانچ منٹ میں مکمل کر دیتی ہے۔ سب سے پہلا سوال جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اس مشین نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader