نئے عہد کے دروازہ پر
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
دراصل یہی وہ سب سے بڑی کمی ہے جو آج ساری دنیا کو لاحق ہے۔ مشرق ہو یا مغرب، روس ہو یا امریکہ سب کے سب اسی ایک چیز کے محتاج ہیں۔ دنیا کا مستقبل اب اسی ایک سوال پر منحصر ہے۔ اگر اس نے کوئی صحیح نظام پالیا ہو، تو یہ دنیا جنت کا نمونہ بن سکتی ہے اور اگر یہ نظام نہ ملا تو پھر کوئی چیز دنیا کو ایک ہولناک تباہی کے انجام سے نہیں بچاسکتی۔ نظام زندگی کا مسئلہ دراصل یہ مسئلہ ہے کہ آدمی کس طرح دنیا میں رہے، اس کی کوششوں کا رخ کیا ہو، اور وہ کون سی شخصیت ہو، جو مختلف انسانوں کے درمیان فیصلہ کرنے اور انھیں باہم جوڑے رکھنے کا کام کرے۔ مثلاً ریل گاڑی کو (1) ایک ڈرائیور کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کو کنٹرول کرے۔ (2) ایک پٹری کی ضرورت ہوتی ہے جس پر وہ بھٹکے بغیر سفر کر سکے۔ (3) اور ایک طے شدہ منزل کی ضرورت ہوتی ہے جس کی طرف وہ دوڑے ۔ بس ان ہی تین چیزوں کا نام زندگی ہے۔ جس طرح ایک مشین کو اپنا کام صحیح طور پر انجام دینے کے لیے یہ تینوں چیزیں ضروری ہیں۔ اسی طرح انسان بھی اپنے مقصد و وجود کو پورا نہیں کر سکتا، جب تک یہ چیزیں اسے حاصل نہ ہوں۔ (1) سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ وہ کون سی شخصیت ہو، جو انسانوں کی اس وسیع آبادی کا انتظام کرے ۔ اور جس کی سب لوگ اطاعت کریں۔ اور جس کو سب کے اوپر حاکمانہ اختیارات حاصل ہوں ۔ یہی شخصیت وہ کنٹرولر (controller) ہوگی، جو ہمارے انجن کو قابو میں رکھ کر چلائے گی ۔ (2) دوسری چیز یہ ہے کہ وہ کون سا قانون ہو جس کو سب لوگ تسلیم کریں، جس کے مطابق ایک شخص اور دوسرے شخص اور ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان فیصلہ کیا جائے ، جو انسانی سرگرمیوں کے صحیح حدود (limitations) متعین کرے، اور زندگی کے مختلف مراحل میں ایک رویئے کو چھوڑنے اور دوسرے رویئے کو اختیار کرنے کی ہدایات دے، یہ گویا وہ پٹری ہوگی جس پر انسانی زندگی کی گاڑی سفر کرے گی۔ (3) تیسری چیز یہ کہ ہم جو اس دنیا میں پیدا ہوئے ہیں تو ہمارے پیدا ہونے کا مقصد کیا ہے۔ وہ کون سی منزل ہے، جدھر ہم کو جانا چاہیے ۔ کون سا کام کرنے میں ہمارے لیے بہتری ہے، اور کون

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader