نئے عہد کے دروازہ پر
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
سے کام ہیں جن کو کرنے کی صورت میں ہمیں نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اسی سے متعلق یہ سوال بھی ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔ اگر یہ زندگی مرکر ختم ہوجاتی ہے تب تو ہمیں اس کے بارے میں کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن موت کے اُس پار بھی اگر کوئی دنیا ہے، اور اس کے بعد بھی اگر زندگی کا سلسلہ باقی رہتا ہے، تو ہم کو آج ہی سے اس کے لیے بھی سوچنا ہوگا۔ کیوں کہ پھر یہ ہماری موجودہ زندگی، موت کے بعد آنے والی زندگی سے الگ نہیں ہوسکتی۔ ہماری آج کی کارگزاریوں کا اثر لازماً کل کے حالات پر پڑے گا۔ اس سوال کے صحیح جواب کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے وہ منزل پالی ہے، جہاں پہنچ کر ہم کو اپنی زندگی کا مقصد حاصل ہو جائے گا۔ اگر ہم نے صحیح مقصد طے کیے بغیر اپنا سفر شروع کر دیا تو اس کی مثال ایسی ہوگی کہ ایک شخص کلکتہ جانے کے ارادے سے ریلوے اسٹیشن میں داخل ہوا اور سامنے پلیٹ فارم پر ایک گاڑی کھڑی دیکھ کر اس میں بیٹھ جائے اور یہ معلوم نہ کرے کہ یہ گاڑی کہاں جا رہی ہے۔ وہ اسی طرح انجان حالت میں سفر کرتا رہے، یہاں تک کہ ٹرین جب اپنے آخری اسٹیشن پر پہنچے تو معلوم ہو کہ یہ امر سر ہے جو کلکتہ سے بالکل مخالف سمت میں ساڑھے گیارہ سو میل دور واقع ہے۔ ہم جس نظام کی دعوت لے کر اٹھے ہیں وہ اسلام ہے۔ دنیا کے مختلف نظاموں کے مطالعے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس آسمان کے نیچے یہی ایک نظام ہے جو زندگی کی گاڑی کو صحیح طور پر چلا سکتا ہے۔ اور اس کو وہاں پہنچا سکتا ہے جہاں یقیناً اسے پہنچنا ہے۔ اب میں بتاؤں گا کہ مندرجہ بالا تینوں بنیادی سوالات کا جواب اسلام کس طرح دیتا ہے اور دوسرے جوابات جو اس سلسلے میں دیے گئے ہیں، ان میں کیا خرابیاں ہیں۔ پہلے سوال کا صحیح جواب پانے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کائنات کا کوئی خدا ہے۔ اگر کوئی ہے جس نے کائنات کو بنایا ہے اور جو اس پورے کارخانے کو چلا رہا ہے، تو لازماً اسی کو ہمارا بھی خدا ہونا چاہیئے۔ پوری کائنات کا حاکم کوئی اور ہو، اور انسان پر کسی دوسرے کا حکم چلے، یہ بات عقل اور منطق کے بالکل خلاف ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader