نئے عہد کے دروازہ پر
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات کے اندر ایک کار فرما قوت کو ماننے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر انگلستان کے مشہور سائنسٹ سر جیمس جینس (Sir James Jeans) نے اپنے ایک مضمون میں زمین اور آسمان کے حیرت انگیز نظام پر گفتگو کرتے ہوئے آخر میں لکھا ہے: ’’کائنات ایک بہت بڑی مشین کے بجائے ایک بہت بڑے ذہن (mind) سے زیادہ مشابہ معلوم ہوتی ہے۔ مادے کے اس نظام میں دماغ اتفاقی طور پر محض ایک اجنبی کی حیثیت سے داخل نہیں ہو گیا ہے، بلکہ یہی غالباً مادے کے اس نظام کو بنانے والا اور اس کے اوپر فرماں روائی کرنے والا ہے۔ پھر یہ دماغ یقیناً ایک عام انسان کے دماغ کی طرح نہیں ہے، بلکہ وہ ایسا دماغ ہے جس نے مادے کے جوہر (atoms) سے انسانی دماغ کی تخلیق کی ہے۔ اور یہ سب کچھ ایک اسکیم کی شکل میں اس کے ذہن میں پہلے سے موجود تھا‘‘۔ The Mysterious Universe, by Sir James Jeans, p. 137, 1938 (London) یہی ’’ذہن‘‘ دراصل وہ عظیم اور برتر خدا ہے جو تمام انسانوں کا مالک اور ان کا حاکم ہے۔ ساری کائنات اسی خدا کی فرماں برداری میں لگی ہوئی ہے۔ پھر انسان کا راستہ کیوں کر اس سے الگ ہوسکتا ہے۔ ایک ریل گاڑی جو کسی تیز رفتار انجن کے ساتھ بندھی ہوئی دوڑی چلی جا رہی ہو، اس کا کوئی ایک ڈبہ اگر اپنے آپ کو اس سے الگ کر کے کوئی دوسرا راستہ بنانا چاہے تو اس کا انجام تباہی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک صحیح ترین راستہ صرف یہ ہے کہ انسان بھی اسی ہستی کا مطیع ہو جائے جس کی اطاعت اس کے گرد و پیش کا سارا عالم کر رہا ہے۔ آسمان کے ستارے اگر جذب و کشش کے نظام سے اپنے آپ کو الگ کر لیں تو آپس میں وہ ٹکرا کر تباہ ہو جائیں اور ایک دن بھی ان کی زندگی باقی نہ رہے۔ یہی حال آج انسان کا ہے۔ اس نے پورے نظام کائنات سے بغاوت کر کے خدا کا حکم ماننے سے انکار کیا۔ اس نے وہ راستہ چھوڑ دیا جس پر مخلوقات کا پورا قافلہ چلا جا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسانی زندگی میں سخت ابتری پیدا ہوگئی ہے۔ امن اور خوش حالی اور سکون کے الفاظ ڈکشنریوں میں لکھے ہوئے تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader