نئے عہد کے دروازہ پر
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
ملتے ہیں اور لیڈروں کی زبان سے آئے دن سنے بھی جاتے ہیں، مگر واقعہ یہ ہے کہ دنیا اب ان نعمتوں سے محروم ہوچکی ہے۔ اور نہایت تیزی سے وہ ایک خوفناک انجام کی طرف دوڑی چلی جارہی ہے۔ اس کا علاج صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے خالق کی طرف پلٹ آئے۔ وہ اس کو اپنا حاکم اور فرماں روا تسلیم کرے اور اس رسی کو مضبوطی سے تھام لے جس کے علاوہ ایک مرکز پر جمع ہونے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں۔ جب کائنات کے اندر ہماری حیثیت یہ ہے کہ دوسری مخلوقات کی طرح ہم بھی خدا کی ایک مخلوق ہیں تو ہمارے لیے اس کے سوا اور کون سی راہ ہوسکتی ہے کہ دوسری مخلوقات جس طرح ہر آن خدا کی بندگی کر رہی ہیں، اسی طرح ہم بھی ایک وفادار رعایا کی طرح اپنے آقا کی بندگی میں لگ جائیں۔ انجن کے پیچھے لگے ہوئے ایک ڈبے کے لیے کیا یہ بھی سوچنے کا موقع ہے کہ وہ کدھر جائے ۔ اس کو تو اسی طرف جانا ہے جدھر اس کا انجن اسے لے جانا چاہتا ہو۔ ایک شخص ہوائی جہاز سے 5 میل کی بلندی پر اڑ رہا ہو اور پھر یکا یک یہ فیصلہ کرے کہ مجھے اس ہوائی جہاز کے ساتھ نہیں جانا ہے بلکہ خود اپنی مرضی کے مطابق چلنا ہے۔ یہ سوچ کر وہ ہوائی جہاز سے باہر کود پڑے تو اس کا کیا انجام ہوگا۔ فضا میں اگر کوئی شخص یہ عمل کرے تو دنیا اس کو پاگل کہے گی۔ کیوں کہ اس کا انجام فوراً سب کے سامنے آجاتا ہے۔ مگر زمین پر آدمی نے اپنی پوری زندگی کے لیے یہی طرزِ عمل اختیار کر لیا ہے۔ اس نے خدا کی بندگی چھوڑ کر خود اپنے نفس کی بندگی ، شیطان کی بندگی، ملک اور قوم کی بندگی شروع کر دی ہے، مگر اس کا غلط ہونا کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔ کیوں کہ اس کا انجام دیکھنے کے لیے سر کی آنکھوں کی بجائے عقل کی آنکھوں کی ضرورت ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ وہ کون سا قانون ہو جس کو ہم اپنی زندگی کا قانون بنائیں۔ جس خدا کا قانون اس اتھاہ فضا کے اندر بے شمار ستاروں اور سیاروں کو منظم کیے ہوئے ہے اور ان میں باہم ٹکراؤ نہیں ہونے دیتا، اس نے کیا انسانوں کو جوڑنے کے لیے کوئی قانون نہیں دیا۔ جس نے پودوں کو یہ سکھایا کہ وہ ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ (carbondioxide) لیں اور آکسیجن (oxygen) خارج

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader