Urdu book · نئے عہد کے دروازہ پر

نئے عہد کے دروازہ پر

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

کردیں ۔ سورج اور زمین سے اپنی خوراک حاصل کریں اور جو چیزیں ان کو نقصان پہنچانے والی ہوں، انھیں چھوڑ دیں۔ سورج اپنے شعلوں کی لپٹ سے زمین کو جلانا نہیں چاہتا اور زمین یہ کوشش نہیں کرتی کہ سمندروں کے پانی سے وہ سورج کو بجھا دے۔ اس نے کیا ایسا کوئی قاعدہ نہیں بنایا جس سے مختلف قومیں ایک دوسرے سے مل کر رہ سکیں اور ایک ملک اور دوسرے ملک میں جنگ کے بجائے صلح کے تعلقات ہوں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یقیناً خدا نے ہم کو ایسا قانون دیا ہے۔ اس نے انسانوں کی پیدائش کے وقت ہی سے پیغمبروں کا ایک سلسلہ قائم کیا جو بار بار دنیا میں آکر خدا کا قانون اس کے بندوں تک پہنچاتے رہے، مگر ہمیشہ ایسا ہوا کہ پیغمبر کی وفات کے بعد غرض مند اور جاہ طلب انسانوں نے اس قانون کو بگاڑ دیا۔ یہاں تک کہ چھٹی صدی عیسوی میں خدا نے اپنے اس قانون کا آخری اور مکمل ایڈیشن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بھیجا، جس کو ہم اسلام کہتے ہیں۔ مسلمان جو دنیا میں اس قانون کے حامل سمجھے جاتے ہیں، ان میں اگر چہ عملی اور اخلاقی اعتبار سے بہت بگاڑ پیدا ہو چکا ہے اور انھوں نے خود بھی اپنی زندگیوں میں اس کا بہت کم اثر باقی رکھا ہے، مگر جہاں تک اسلامی قانونِ حیات کا تعلق ہے وہ آج بھی اپنی پوری شکل میں موجود ہے اور ہر شخص اور قوم کے لیے یہ موقع ہے کہ اس کو اختیار کر کے وہ اپنے معاملات کو درست کرلے۔ آج دنیا کے لوگ جس نظریے کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، وہ انسانی قانون سازی کا نظریہ ہے۔ مختلف قوموں اور حکومتوں نے اپنی اپنی مرضی کے مطابق، خود ہی قوانین بنائے اور انھیں کے مطابق ، وہ اپنے معاملات کو چلا رہے ہیں۔ چناں چہ دنیا میں سخت خلفشار (anarchy) برپا ہے اور زندگی کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں جارہی ہے، یہ انجام اس لیے ہے کہ انسان خود اپنے لیے قانون نہیں بنا سکتا۔ انسان خود غرض ہے، وہ اپنے کو اور دوسرے کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ جو قانون بھی وہ بنائے گا، اس میں لازماً اس کے رجحانات شامل ہوں گے۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ (South Africa) کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page