نئے عہد کے دروازہ پر
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
حکومت نے یہ طے کیا ہے کہ وہاں گوروں اور کالوں کی بستیاں الگ الگ کردی جائیں۔ اس فیصلے کے تحت حبشیوں (Negro) کو زبردستی ان کے موجودہ گھروں اور جائیداد سے بے دخل کرکے دور کے علاقوں میں بھیج دیا جائے گا۔ اور اس طرح نسلی امتیاز کی بنا پر لوگوں کو الگ الگ بسانے کی اسکیم پر تقریباً 4 ارب 32 کروڑ پونڈ خرچ ہوں گے۔ آزادی سے پہلے کانگریس برابر یہ وعدہ کر رہی تھی کہ آزاد ہندوستان میں ہندوستانی زبان (اردو اور ہندی) کے درمیان جو سرکاری زبان ہوگی وہ دونوں رسم الخط (script) میں لکھی جائے گی۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے 1935 میں کہا تھا: ”مجھے اس بارے میں مطلق کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستانی زبان آگے چل کر پورے ہندوستان کی مشترکہ زبان بن جائے گی۔ رسم الخط کی مشکل حل کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ فارسی اور دیوناگری دونوں کو سرکاری طور پر تسلیم کر لیا جائے اور لوگوں کو اس کی اجازت دی جائے کہ جس خط میں وہ چاہیں لکھیں‘‘ (میری کہانی 1935، جلد 2، صفحہ 300) مگر جب اقتدار بدلا اور ملک کے لیے قانون بنانے کا اختیار کانگریس کے ہاتھ میں آیا تو اس نے ہندوستان کے کروڑوں باشندوں کی خواہش کے باوجود ہندی کو دیوناگری رسم الخط میں سرکاری زبان قرار دے دیا۔ انسان چونکہ وسیع تر حقیقتوں کا علم نہیں رکھتا، وہ صرف سامنے کی چیزیں دیکھ سکتا ہے۔ اس لئے اس کے قانون میں بار بار تبدیلی کی ضرورت پیش آتی ہے اور خدا کے بندے ان کی قانون سازی کا تختۂ مشق بنے رہتے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد 1945 میں انگلستان میں لیبر پارٹی برسراقتدار آئی اور اس نے کوئلے اور لوہے کی صنعت کو قومی ملکیت (public sector) قرار دے دیا۔ مگر 1951 کے الکشن میں جب سرونسٹن چرچل (Sir Winston Churchil) کی پارٹی غالب آگئی تو اس نے دوبارہ ان صنعتوں کو نجی ملکیت (private sector) میں واپس کر دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader