Urdu book · نئے عہد کے دروازہ پر

نئے عہد کے دروازہ پر

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کا دستور (constitution) جو بہترین اہلِ دماغ حضرات نے دنیا کے بہت سے دستوروں کو سامنے رکھ کر تقریبا تین سال کی کوششوں کے بعد بنایا تھا، ابھی صرف ایک سال ہوا تھا کہ اس میں ترمیم کی ضرورت پیش آگئی۔ اور جون 1951 تک 10 دفعات میں ترمیمیں اور تین اضافے کئے جاچکے ہیں۔ جب یہ دستور بن رہا تھا، اس وقت سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر مسٹر اشوک مہتانے مطالبہ کیا تھا کہ اس کو سوشل ازم کی بنیادوں پر مرتب کیا جائے۔ مگر اس وقت اس کی ضرورت نہیں سمجھی گئی اور دفعہ 19 اور 31 پاس کر دی گئی، جس کی رو سے ذرائع پیداوار پر نجی ملکیت کو تسلیم کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ کوئی جائیداد کسی شخص سے قانونی حق کے بغیر نہیں لی جاسکتی۔ مگر چار سال کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو (وفات : 1964) کو احساس ہوا کہ ہندوستان کی منزل سوشل ازم (Socialism) ہونی چاہیے۔ چناں چہ مذکورہ بالا دفعات میں ترمیم (amendment) کی جارہی ہے تاکہ نجی ملکیتوں پر کسی دستوری رکاوٹ کے بغیر حکومت قبضہ کر سکے۔ انسانی قانون سازی کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ اس میں بے اعتدالی ہوتی ہے۔ وہ کبھی ایک چیز سے متاثر ہوتی ہے اور اس کی حد کو پہنچ جاتی ہے اور کبھی دوسری چیز سے متاثر ہوتی ہے اور اس کی انتہا کو نکل جاتی ہے۔ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں آج کل اصلاحِ آراضی (land reform) کا بہت چرچا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ زمین داری اور جاگیرداری کا جو نظام عرصے سے وہاں چلا آرہا تھا، اس میں بہت سی خرابیاں تھی اور ان کی اصلاح ضروری تھی۔ مگر انسانی قانون سازی صرف خرابیوں کی اصلاح پر نہیں رکی بلکہ اس نے سرے سے زمین داری ہی کا خاتمہ کر دیا۔ اور اس سلسلے میں ایسے مضحکہ خیز قوانین بنائے جو حالات کو سدھارنے کے بجائے اس کو بگاڑنے میں مددگار ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر یوپی خاتمۂ زمین داری قانون کی ایک دفعہ یہ ہے : ”ہر شخص جو یوپی لینڈ رفارمز ایکٹ کے نفاذ (30 اکتوبر 1954) سے فوراً پہلے کسی کھیت کا ادیاسی (سیر یا کسی دوسری آراضی کا جوتنے والا) رہا ہو یا ایسا سمجھا جائے تو وہ اس تاریخ سے اس زمین کا سیر دار ہوگا اور اس کا قبضہ اس پر تسلیم کیا جائے گا۔ اور وہ تمام حقوق اور ذمے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page