Urdu book · نئے عہد کے دروازہ پر

نئے عہد کے دروازہ پر

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

داریاں جو پہلے سیر دار سے متعلق تھیں ، اس قانون کے بموجب ، اسے حاصل ہو جائیں گی“۔ (Uttar Pardesh Zamindari Abolition and Land Reform Act (1954) Section 240) ہندوستان میں پہلے بھی یہ قانون رائج تھا کہ جو شخص کھیت جوتے وہ اس کا سکی ہو جاتا ہے۔ اس قانون کی وجہ سے ہمارے یہاں جھوٹ اور بددیانتی کا ایک مستقل سلسلہ قائم تھا۔ زمین دار(landlord)، آسامیوں کو جوتنے کے لیے کھیت دیتے تھے اور پٹواریوں (village registrar) کورشوت دے کر پڑتال اپنے نام کراتے تھے۔ مگر اس وقت کے قانون میں اس کی گنجائش تھی کہ زمین دار جب بھی چاہے، مقدمہ لڑ کر کاشت کار کو اس کے کھیت سے بے دخل کر سکتا تھا۔ مگر اب بے دخلی کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے، جو شخص کوئی کھیت جوت رہا ہے، وہ لازماً اس کھیت پر قابض سمجھا جائے گا۔ اس نئے قانون نے ہماری دیہی آبادی کو سازش ، قتل اور مقدمے بازی کا اکھاڑہ بنا دیا ہے۔ اس نے اخلاقی اور معاشی دونوں پہلوؤں سے ملک کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مکان اور فرنیچر کرائے پر دئے جاسکتے ہیں اور اس میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں۔ اگر موٹر اور دوسری گاڑیاں کرائے پر چلائی جاسکتی ہیں اور قانون اس کی اجازت دیتا ہے تو زمین ہی کے معاملے میں آخر یہ انوکھا قانون بنانے کی کیا ضرورت ہے کہ اس کو کرائے پر یا بٹائی پر نہیں دیا جا سکتا، اگر دیا گیا تو ملکیت ختم ہو کر وہ جوتنے والے کی طرف منتقل ہو جائے گی۔ پھر انسان چون کہ اس بات کا صحیح علم نہیں رکھتا کہ ایک خرابی کے پیدا ہونے کے اسباب کیا ہوتے ہیں۔ اس لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس برائی کو روکنے کے لیے وہ قانون بناتا ہے، کسی دوسری شکل میں وہ خود اس کے اسباب کی پرورش کرتا ہے۔ ایسے کام جن کو عام طور پر دنیا میں برا سمجھا جاتا ہے، ان کے لیے تمام قوانین میں سزائیں مقرر ہیں ، مگر اس کے باوجود ساری دنیا میں حالت یہ ہے کہ جرائم کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ آدمی ایک کھلی ہوئی برائی کو برائی سمجھتا ہے اور اس پر قانونی پابندی لگا دیتا ہے مگر اجتماعی زندگی میں وہ بہت سی چیزیں جو کسی شخص کو اس برائی کے لیے تیار کرنے کا سبب ہوتی ہیں ان کا قطعی علم چون کہ انسان کو نہیں ہوتا، اس لئے ان کو وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page