Urdu book · نئے عہد کے دروازہ پر

نئے عہد کے دروازہ پر

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر زنا ایک ایسا فعل ہے، جس کو ہر ملک کے قانون میں قابل سزا قرار دیا گیا ہے۔ مگر بے پردگی، سینما، فحش لٹریچر (pornography) اور رقص وموسیقی کے پروگرام، جو آدمی کو اس فعل کے لیے ابھارتے ہیں، ان کو نہ صرف جائز رکھا گیا ہے بلکہ حکومتیں باقاعدہ ان کی سرپرستی کرتی ہیں۔ ایک عورت بن سنور کر بے پردہ سینما دیکھنے جائے تو قانون اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتا۔ مگر رات کے ایک بجے جب وہ دوسرا شو دیکھ کر اکیلی گھر واپس جا رہی ہو اور کسی سنسان سڑک پر ایک آدمی اس کو پکڑ لے تو قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔ کالجوں میں جوان لڑکے اور لڑکیاں پوری بے باکی کے ساتھ ایک ساتھ پڑھتے اور کھیلتے ہیں اور اس کو جدید تہذیب (modern culture) کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس میل جول سے جب ایک طالب علم ایک طالبہ کو پسند کر لیتا ہے اور جب کسی رات کو دونوں کسی پارک میں بدکاری کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں تو دونوں کالج سے نکال دیے جاتے ہیں۔ ایک خاتون سائیکل کے ذریعہ سارے ملک کے دورے پر نکلتی ہے تو اخباروں میں اس کی تصویر چھپتی ہے اور بڑے آب و تاب کے ساتھ اس کی خبریں شائع کی جاتی ہیں، مگر جب کسی سنسان راستہ سے گزرتے ہوئے کچھ نو جوان اسے پکڑ لیتے ہیں تو قانون انھیں جیل بھیج دیتا ہے۔ انسان کے بنائے ہوئے قوانین میں اس طرح کے خلا کا پایا جانا یقینی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانون کی موٹی موٹی کتابوں کے باوجود کہیں بھی قانون کا منشا پورا نہیں ہو رہا ہے۔ مگر خدا کا قانون اس طرح کے تمام خرابیوں سے پاک ہے۔ خدا سارے انسانوں کا خدا ہے۔ اس کا کسی شخص سے کوئی ایسا تعلق نہیں ہے جو دوسرے شخص سے نہ ہو۔ اس لئے اس کے قانون میں کسی خاص ملک یا قوم سے طرف داری نہیں ہو سکتی۔ پھر خدا ہی وہ ہستی ہے جس نے سارے عالم کو بنایا ہے اس لیے اسی کو ہر چیز کی حقیقتوں کا صحیح علم ہے۔ اس کی قانون سازی صحیح ترین علم کی بنا پر ہوئی ہے نہ کہ محض قیاس اور تجربہ کی بنا پر۔ خدا ایک عظیم ہستی ہے جس کے بارے میں انسانوں کی طرح جذبات سے متاثر ہو جانے کا شبہہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے اس کے قانون میں خود غرضی اور افراط

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page