نئے عہد کے دروازہ پر
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
وتفريط نہیں ہوتی۔ خدا نے انسان کو بنایا ہے، اس لیے وہ اس کی نفسیات سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ انسان کے اندر کیا کیا کمزوریاں ہیں۔ اس لیے اس کا قانون صرف اچھے اور برے کاموں کی فہرست دے کر ہی خاموش نہیں ہو جاتا، بلکہ ان اسباب کو نشوونما دینے کا بھی انتظام کرتا ہے جو آدمی کو اچھے کام کے لیے اکساتے ہیں، اور ان اسباب کو ختم کر دینا چاہتا ہے جو آدمی کو برے کام کی طرف لے جاتے ہیں۔ غرض کہ یہ صحیح ترین قانون ہے جو قطعی علم کی بنیادوں پر زندگی کے تمام معاملات کے لیے احکام دیتا ہے اور وہ ان خرابیوں سے بالکل پاک ہے جو انسان کے بنائے ہوئے قوانین میں ملتی ہیں۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ انسان کی منزل کیا ہے۔ یہ زندگی کیا محض چند دن کے لیے ہے جو مرنے کے بعد ختم ہو جائے گی۔ کیا موت کے بعد کوئی زندگی نہیں جس کے لیے ہمیں تیاری کرنے کی ضرورت ہو۔ واقعات کی منطق اس کے خلاف رہنمائی کرتی ہے۔ انسانی جسم کا تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ 12 عناصر ہیں جن سے مل کر آدمی کا جسم بنا ہے۔ ہائیڈروجن، آکسیجن، نائٹروجن، کاربن، فاسفورس، گندھک، کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم، سوڈیم، کلورین اور فولاد۔ یہی 12 چیزیں ہیں جن سے ننانوے فی صدی جسم انسانی کی ترکیب ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ 3 عناصر (elements) اور ہیں جن کی ضرورت جسم کو برابر پڑتی ہے۔ آئیوڈین، میکنیز اور تانبا۔ یہ عناصر جس مقدار میں جسم کے اندر موجود ہیں ان کا تخمینہ کر کے قیمت کا اندازہ کیا گیا تو 25 فرانک ہوئی۔ اس 25 فرانک کے مادے سے انسان جیسی حیرت انگیز مخلوق کا بنانا کیا محض ایک کھیل ہے جو چند دن کے لیے کھیلا گیا ہے۔ ہم بولتے ہیں۔ بظاہر یہ بہت آسان سی بات ہے مگر کوئی چھوٹے سے چھوٹا حرف بولنے کے لیے بھی جسم انسانی کے اندر 70 نسوں (veins) کو حرکت کرنی پڑتی ہے۔ ہم دیکھتے اور سنتے ہیں، لیکن فضا کے اندر روشنی اور آواز کی لہریں پیدا ہونے کا عجیب و غریب انتظام نہ ہوتا تو ہم آنکھیں رکھ کر بھی اندھے ہوتے اور کان ہوتے ہوئے بھی ہمیں کچھ سنائی نہ دیتا۔ یہ خون جو ہم کو قوت اور زندگی بخشتا ہے۔ اس کو دل سے جسم کے مختلف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader