Urdu book · نئے عہد کے دروازہ پر

نئے عہد کے دروازہ پر

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

حصوں میں پہنچانے کے لیے جتنی شریانیں (arteries) ہیں اور پھر دل کی طرف واپس لانے کے لیے جو وريدیں (veins) ہیں، اگر ان کے سروں کو ایک دوسرے سے ملاکرناپا جائے تو 3 لاکھ 50 ہزار میل کی لمبائی ہوگی جو پوری زمین کے گرد چودہ بار لپٹی جاسکتی ہے۔ پھر یہ دماغ جس سے ہم سوچتے ہیں اور جو 3 لاکھ سے زیادہ اعصابی تاروں کے ذریعہ پورے بدن کو کنٹرول کرتا ہے، کس قدر عجیب ہے۔ کیا یہ حیرت انگیز انسان بس اسی لیے ہے کہ چند سال دنیا میں زندگی گزارے اور اس کے بعد مرکر مٹی میں مل جائے۔ یہ انسان جس کی زندگی کے لئے ہوا اور پانی اور سورج کا انتظام کیا گیا ہے، جس کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے زمین میں بے شمار قسم کی چیزیں پیدا کی گئی ہیں، کیا اس کا انجام بس یہی ہے کہ وہ بچہ سے جوان ہو، پھر بوڑھا ہو، اور پھر ایک دن مرکر ختم ہو جائے۔ ایک اور پہلو سے دیکھئے، ایک شخص بہت نیک اور معقول ہے، مگر اس کی ساری زندگی تکلیف میں گزر جاتی ہے۔ وہ خود کسی کا مال نہیں چھینتا مگر دوسرے اس کے گھر میں چوری کرتے ہیں۔ وہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتا مگر دوسروں سے اسے تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بولتا مگر دوسرے اس پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔ وہ جب عدالت میں دادرس کے لیے جاتا ہے تو وہاں بھی دوسرے لوگ اپنے پیسے اور سفارش کے زور سے مقدمہ جیت جاتے ہیں اور الٹے اسی کو سزا ہو جاتی ہے۔ کیا اس ظلم کا کوئی انصاف نہیں ہوگا۔ کچھ لوگ اپنے ذہن سے ایک نظریہ گھڑتے ہیں اور اس کو نافذ کرنے کے لیے لاکھوں بندگان خدا کو قتل کرکے ان کی ملکیتیں چھین لیتے ہیں اور پورے ملک کو جیل خانہ کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کیا اس کی کوئی بازپرس نہیں ہے، کچھ لوگ ملک کے نظم و نسق پر قابض ہو کر قدرت کے ذرائع کی اس انداز میں تحقیق کرتے ہیں کہ ان سے کیسے کیسے خطرناک ہتھیار بنائے جاسکتے ہیں۔ اور پھر بموں کی بارش سے پورے پورے شہروں اور ملکوں کو آگ میں بھون ڈالتے ہیں۔ کیا اس کی کوئی پوچھان سے نہیں ہوگی۔ کسی ملک میں چند سرمایہ داروں کے پاس اناج اور پھل کی کافی پیداوار ہوتی ہے، مگر وہ بھاؤ گرنے کے ڈر سے لاکھوں من پیداوار کو جلا ڈالتے ہیں یا سمندر میں پھینک دیتے ہیں۔ حالاں کہ خود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page