نئے عہد کے دروازہ پر
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کے ملک میں اور ملک کے باہر بہت سے لوگ انھیں چیزوں کے لیے ترستے ہیں۔ کیا ایسی کوئی عدالت نہیں ہے جہاں انھیں اپنے اس فعل کا جواب دینا ہو۔ اس وقت دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ اس کی ہم کوئی تو جیہہ نہیں کر سکتے اگر ہم ایک ایسے دن کو تسلیم نہ کریں، جب کہ ایک ایک شخص اور ایک ایک قوم کی کارگزاریوں کی جانچ ہوگی۔ اور اس کے کارنامے کے مطابق ، اس کو اچھا یا برا بدلہ دیا جائے گا۔ اس طرح کے ایک دن کو مانے بغیر یہ دنیا محض بچوں کا کھیل نظر آتی ہے۔ اس طرح کا ایک دن ماننا اس لئے بھی ضروری ہے کہ دنیا میں آدمی کو صحیح رویہ پر قائم رکھنے کے لیے اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہے۔ اگر زندگی بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور مرنے کے بعد کوئی حساب نہیں ہونے والا ہے تو پھر کیا ضرورت ہے کہ آدمی سچائی اور دیانت داری اختیار کرے، کیوں نہ اپنے فائدے کے لیے وہ جھوٹ بولے، کیوں نہ رشوت لے اور غبن کرے، کیوں نہ ایک قوم دوسری قوم پر ڈاکہ ڈالے۔ اس نظریہ کو نہ ماننے کے بعد پھر کوئی ایسا عامل (factor) باقی نہیں رہتا جو آدمی کو صحیح رویہ پر برقرار رکھنے کے لیے مجبور کر سکتا ہو، پھر یہ انسانی آبادی ایک جنگل میں تبدیل ہو جاتی ہے جہاں ایک جانور دوسرے جانور کو کھا جانا چاہتا ہے۔ اور کوئی فرد کسی اخلاقی اور انسانی ضابطے کا پابند نہیں ہے۔ اسلام کے یہ تین بنیادی اصول جن کی تشریح میں نے یہاں کی ہے، ان کے اوپر ایک پورا نظام زندگی تعمیر ہوتا ہے، جو بچپن سے لے کر موت تک انسان کی رہ نمائی کرتا ہے۔ ہم گھر کے اندر اور گھر کے باہر کس طرح رہیں۔ ہمارے لین دین کا طریقہ کیا ہو۔ بڑے بڑے تجارتی معاملات کس طرح انجام پائیں ۔ مختلف علوم وفنون کی تعلیم کیوں کر دی جائے۔ پبلک کے حقوق کیا ہیں۔ حکمرانوں کو کس طرح رہنا چاہئے۔ عدالتوں میں کون سا قانون چلے۔ حکومت کی پالیسی کیا ہو۔ دوسرے ملکوں اور قوموں سے کس طرح کے تعلقات رکھے جائیں۔ غرض زندگی کے ہر شعبے میں وہ نہایت واضح ہدایات دیتا ہے۔ جن کی بنیادوں پر ایک نہایت محکم سوسائٹی بنتی ہے۔ جو قومی غرور میں مبتلا نہیں ہوتی اور نہ اس کے اوپر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader