Urdu book · نئے عہد کے دروازہ پر

نئے عہد کے دروازہ پر

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

نئے عہد کے دروازہ پر ہم ایک نئے عہد کے دروازہ پر کھڑے ہیں۔ مستقبل کے مورخ اسے ایٹمی دور سے تعبیر کریں گے، یا آئندہ کوئی مورخ ہی نہ ہوگا جو انسانیت کی بربادی کی داستان قلم بند کر سکے ۔ 2 دسمبر 1942 کو جس ایٹمی قوت پر انسان نے قابو حاصل کیا ہے، اس میں دنیا کے لیے زندگی ہے یا موت۔ یہ ایک عظیم قوت ہے، جس سے مفید کام لیے جائیں ، تو خوشی اور فارغ البالی کی ایک نئی دنیا بسائی جاسکتی ہے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ یورینیم (Uranium) کے ایک ذرے کے پھٹنے سے 10 کروڑ وولٹ (volt) کی طاقت حاصل ہوتی ہے۔ چٹکی بھر مادے میں اتنی قوت پوشیدہ ہے کہ اس سے ایک ریل گاڑی ساری دنیا کے چکر کاٹ لے۔ جو کام آج کئی لاکھ ٹن کوئلے سے لیا جاتا ہے، وہ صرف ایک پونڈ یورینیم کے ذریعے ممکن ہے۔ مثلاً ایٹمی قوت سے چلنے والا ایک سمندری جہاز بمبئی سے روانہ ہو، تو وہ ساری دنیا کا سفر کر کے واپس آسکتا ہے۔ راستے میں اسے دوبارہ ایندھن (Fuel) لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ قوت کا ایسا اتھاہ خزانہ ہے، جو انسان کو بجلی، تیل اور کوئلے سے بے نیاز کر کے نہایت سستے داموں سارے کام انجام دینے کے قابل بنا سکے گا۔ مگر اس قوت کا سب سے پہلا استعمال 6 اگست 1945 کو ایک خوف ناک بم کی شکل میں ہوا، جس نے 12 میل مربع رقبہ کے شہر ہیرو شیما (Hiroshima) کو چند منٹ میں صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ انسان اور حیوان اور درخت سب جل بھُن کر خاک ہو گئے ۔ صرف ایک ایٹمک بم کے نتیجے میں 7 لاکھ حادثے ہوئے ، ایک لاکھ 26 ہزار موتیں واقع ہوئیں۔ جن میں 66 ہزار تو فوراً مر گئے اور باقی 60 ہزار نے زخموں سے سسک سسک کر جان دی۔ 10 ہزار لوگ ایسے تھے، جو فوراً بخارات میں تبدیل ہو گئے اور کئی میل دور تک مکانات دھماکے سے گر پڑے۔ یہ 10 سال پہلے کی بات تھی۔ اب اس طاقت سے جو بم بنائے گئے ہیں وہ اور بھی زیادہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page