نئے عہد کے دروازہ پر
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
ہولناک ہیں۔ امریکہ کی ایک تازہ ترین اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ ان بموں کو کوبالٹ (Cobalt) کے خول میں رکھ کر داغا جائے، تو اس سے نہایت طاقت ور ریڈیائی لہروں (Radio-Active) والا بادل پیدا ہوگا۔ یہ بادل ہوا کے ساتھ ساتھ ہزاروں میل تک پھیل جائے گا، اور ان کے تباہ کن اثرات سے کوئی جان دار چیز بچ نہ سکے گی۔ ایٹمی سائنس کے ماہر پروفیسر براؤن (Prof. Brown) نے کہا ہے کہ اگر اتحادیوں نے روس (Russia) اور چیکوسلوواکیہ (Czechoslovakia/Czech Republic) کی سرحد پر کوبالٹ بم گرایا تو ڈیڑھ ہزار میل چوڑے اور تین ہزار میل لمبے علاقے میں کوئی ذی روح باقی نہ رہے گا، اور لینن گراڈ (Lenin Grade) سے اوڈیبا (Odessa) تک اور پراگ (Prague) سے کوہ یورال (Ural) تک موت کا سناٹا چھا جائے گا۔ شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر لیوز لارڈ (Prof. Lewis Lord) نے بتایا کہ ایک ٹن والے چار سو کوبالٹ بم کے پھٹنے سے پوری زمین پر زندگی کا نام ونشان مٹ جائے گا اور صدیوں تک دنیا غیر آباد رہے گی۔ تیسری عالمی جنگ آج اسی طرح کے ایک خوفناک امکان کی حیثیت سے دنیا کے سر پر کھڑی ہے۔ اور اگر یہ جنگ ہوئی تو بقول ڈاکٹر رادھا کرشنن (وفات: 1975) ”یہ روس اور امریکا کی جنگ نہیں ہوگی، بلکہ دنیا کے عدم اور وجود کی جنگ ہوگی۔“ یہ وقت کا اہم ترین مسئلہ ہے، جس کا حل سوچنے میں دنیا کے بڑے بڑے لوگ لگے ہوئے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ تمام ایٹم بم سمندروں میں ڈال دیے جائیں۔ مگر ظاہر ہے کہ جولوگ کروڑوں اور اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے خرچ کرکے یہ خطرناک ہتھیار بنا رہے ہیں، وہ کیا محض اتنا کہہ دینے سے انھیں سمندر میں پھینک دیں گے۔ کوئی کہتا ہے کہ عالمی حکومت قائم کرو۔ مگر دنیا کی مختلف قومیں جو ایک دوسرے کی دشمن ہو رہی ہیں، کیا ان کو ملا کر کوئی بین الاقوامی حکومت (international state) قائم کی جاسکتی ہے۔ کوئی شخص بقاء باہم (co-existance) کا اصول پیش کرتا ہے۔ مگر موجودہ حالات میں باہم مل کر رہنے کا نظریہ صرف روس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader