اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
اور ازواج رسول نے اضافہ نفقہ کا مطالبہ کیا تو آپ کو بہت رنج ہوا اور آپ نے ایک مہینہ تک گھر کے اندر نہ آنے کی قسم کھالی۔ اس سلسلے میں تاریخ میں آتا ہے کہ جب ایک صحابی عمر فاروق سے ملے اور ان سے کہا: ”کچھ سنا آپ نے‘‘ تو عمر فاروق کی زبان سے فوراً نکلا: ”کیا غساسنہ آگئے‘‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں غسانیوں کی طرف سے مدینے کے لیے کتنا خطرہ لاحق تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسئلہ کا شدید احساس تھا۔ چنانچہ اپنی عمر کے آخری ایام میں جن امور کے لیے آپ نے شدت سے اہتمام کیا، ان میں غساسنہ یا بالفاظ دیگر رومیوں سے مقابلہ کے لیے فوج کی تیاری بھی تھی۔ آپ نے اس مقصد کے لیے ایک فوج ترتیب دی۔ اس فوج میں اگرچہ ابو بکر و عمر جیسے بڑے بڑے اصحاب تھے مگر آپ نے انتہائی دانش مندی سے کام لیتے ہوئے اس لشکر کا سردار اسامہ بن زید کو مقرر کیا۔ اسامہ ایک بہادر نوجوان تھے۔ وہ اس کام کو پورا کر سکتے تھے، جوان کے والد کے وقت میں موتہ کی جنگ میں ادھورا رہ گیا تھا۔ موتہ کی جنگ میں مسلمانوں نے اسامہ کے والد زید بن حارثہ کی قیادت میں رومیوں کے خلاف مقابلہ کیا تھا، اور زید اس جنگ میں قتل ہوئے تھے۔ جب اہل اسلام کو اندازہ ہوا کہ جنگ کا جاری رکھنا ان کے حق میں نہیں ہے تو حضرت خالد درمیان ہی میں واپس ہو کر مدینہ آگئے، وغیرہ۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں یہ اسامہ کا لشکر روانہ نہ ہوسکا۔ کیونکہ عین وقت پر آپ کے اوپر مرض الموت کا غلبہ ہو گیا۔ آپ کی وفات کے بعد صدیق اکبر نے خلیفہ اول کی حیثیت سے اس لشکر کو شام کی طرف روانہ کیا۔ یہ روانگی بھی اسلامی تاریخ کا حیرت انگیز واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہر طرف سے ارتداد کی خبریں آنے لگیں۔ لوگوں نے خلیفہ اول کو مشورہ دیا کہ اب جب کہ مرکز اسلام خطرہ میں پڑ گیا ہے اور مدینہ پر حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں، اس لشکر کی روانگی کو ملتوی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader