Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

کر دیا جائے، مگر صدیق اکبر کا یہ جواب لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے کافی تھا: ’’اگر مجھ کو یقین ہو کہ لشکر کی روانگی کے بعد مجھ کو مدینہ میں کوئی درندہ تنہا پا کر پھاڑ ڈالے گا، تب بھی میں اُس لشکر کی روانگی کو ملتوی نہیں کر سکتا جس کو خود رسول اللہ نے ترتیب دیا ہو؛ وَ اللَّهِ لَا أَحُلُّ عُقْدَةً عَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ أَنَّ الطَّيْرَ تَخَطَّفُنَا، وَالسِّبَاعَ مِنْ حَوْلِ الْمَدِينَةِ وَلَوْ أَنَّ الْكِلَابَ جَرَتْ بِأَرْجُلِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ لَأُجَهِّزَنَّ جَيْشَ أُسَامَةَ (البداية والنهاية، جلد 6، صفحہ 304)۔ صدیق اکبر کی یہ ایمانی جرات کام آئی۔ اسامہ کا لشکر نہ صرف رومیوں کے مقابلہ میں کامیاب ہوا بلکہ رومی شہنشاہیت کے مقابلہ میں مسلمانوں کی فتح نے مرتدین کی بھی حوصلہ شکنی کی اور نسبتاً آسانی کے ساتھ وہ مغلوب کر لیے گئے۔ اس واقعہ میں ایک اور بہت بڑی حکمت شامل تھی، عرب قبائل ہمیشہ سے آپس میں لڑتے چلے آ رہے تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ اپنی قوتوں کے اظہار کا دوسرا میدان نہ پا کر وہ دوبارہ آپس میں لڑنے لگیں گے۔ نبی نے اپنی وفات کے وقت عرب طاقت کو رومی شہنشاہیت سے متصادم کر کے اس کا جواب فراہم کر دیا۔ اب عربوں کی جنگجو فطرت کے لیے ایک بہترین میدان مل چکا تھا۔ چنانچہ تاریخ نے دیکھا کہ وہ لوگ جو اپنے ہم وطنوں کی قتل و غارتگری کے سوا کچھ نہ جانتے تھے انہوں نے ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں ایک پوری دنیا کو فتح کر ڈالا۔ برٹش رائٹر جان بیگٹ گلب (1897-1986, Sir John Bagot Glubb) نے اپنی کتاب دی لائف اینڈ ٹائمز آف محمد میں اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’عرب نامعلوم زمانے سے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ و جدل میں زندگی بسر کرنے کے عادی تھے۔ یہ جنگ و جدل کسی خاص سبب کا نتیجہ نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ ان کی طرز زندگی میں داخل تھی۔ اب جب کہ وہ بحیثیت مسلمان ایک دوسرے سے لڑنے سے بھڑنے سے روک دیے گئے تھے، یہ کیسے ممکن تھا کہ فوجی ذہنیت کے قبائلی آدمیوں کو ہمیشہ کے لیے پر امن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page