اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
سردار مقرر کیا اور ضروری نصیحتیں کرنے کے بعد ان کو شام کی طرف روانہ کیا۔ اسلامی لشکر نے معان (شام) پہنچ کر قیام کیا۔ دوسری طرف حاکم بصرى بھی جنگ کے لیے تیار ہو گیا۔ اس کی حوصلہ افزائی اس واقعہ سے بھی ہوئی کہ اتفاق سے ہر قل انھیں دنوں آب (بلقاء) میں آیا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ایک لاکھ مسلح فوج تھی۔ نیز اس علاقے کے عیسائی قبائل لخم، جذام، قین، بھراء، بلی بھی مسیحی حمیت کے جوش میں اٹھ کھڑے ہوئے اور بنی بلی کے سردار مالک بن زرافلہ کی قیادت میں لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اس طرح شامی محاذ پر ایک لاکھ سے بھی زیادہ کا لشکر جمع ہو گیا جبکہ مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔ یہ جنگ جو جمادی الاولیٰ 8 ھ میں ہوئی، اس میں زید بن حارثہ دشمنوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔ اس کے بعد جعفر بن ابی طالب اور عبد اللہ بن رواحہ بھی قیادت کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ مسلمانوں کا جھنڈا گر جانے سے انتشار کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ اس وقت لشکرِ اسلام کے ایک سپاہی ثابت بن اقرم نے بڑھ کر جھنڈا اٹھا لیا اور بلند آواز سے کہا: ’’مسلمانو! کسی ایک شخص کو امیر بنانے پر اتفاق کرلو‘‘ (يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ اصْطَلِحُوا عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ)۔ مسلمان فوجیوں کی طرف سے آواز آئی: رضینابك (ہم تمہاری سرداری پر راضی ہیں) ثابت ابن اقرم نے جواب دیا: ما أنا بِفاعل، فاصْطَلَحَ النَّاسُ عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ (میں یہ کام نہ کر سکوں گا، تو مسلمانوں نے خالد بن ولید کو اپنا سردار بنایا)۔ خالد بن ولید نے آگے بڑھ کر جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور رومی لشکر پر حملہ کر کے اس کو پیچھے دھکیل دیا (دیکھیے، تاریخ الطبری، جلد 3، صفحہ 42-36، الکامل فی التاریخ لابن الاثیر، جلد 2، صفحہ 238-234)۔ تا ہم یہ جنگ فیصلہ کن طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ رومیوں کی مدد سے غساسنہ مدینہ پر چڑھ آئیں اور اس نومولود ریاست کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ ذی الحجہ 5 ھ میں بنو قریظہ کے خاتمہ کے بعد جب مدینہ میں بعض معاشی مسائل پیدا ہوئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader