اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جائے؟ پیغمبر اسلام نے خود اس مہم کو روانہ کر کے جس نے موت میں شکست کھائی تھی اس سوال کا حل پیش کر دیا تھا۔ 634 ء کے سرما میں تین عرب کالموں نے فلسطین اور شام پر حملہ کر دیا اسی اثناء میں مشرقی عرب کے قبیلوں نے جو حیرہ کی لخمی ریاست کی ضبطی کے بعد سے ایران کے دشمن بنے ہوئے تھے، فرات کی طرف پیش قدمی کر کے حیرہ پر قبضہ کر لیا۔ 26 اگست 636 ء کو باز نطینی (رومی) قوت نے یرموک کے میدان میں مکمل شکست کھائی اور شام کا تمام علاقہ طبر یہ تک عربوں کے قبضہ میں آگیا۔ فروری 637 ء میں ایرانی فوج قادسیہ کے مقام پر جو حیرہ سے چند میل کے فاصلہ پر تھا مکمل طور پر تباہ کر دی گئی اور قدیم عراق بشمول ایرانی دارالسلطنت مدائن جو دجلہ کے جنوب میں موجودہ بغداد کے قریب واقع تھا، عربوں کے زیر تسلط آگیا۔ 640 ء میں مصر پر حملہ ہوا اور ایک بار پھر باز نطینی حکومت شکست یاب ہوئی اور ستمبر 642 ء تک پورے مصر پر عرب قبضہ مکمل ہو گیا۔ اسی سال بچی کچی ایرانی فوج نہاوند کے مقام پر تباہ کر دی گئی اور ایرانی سلطنت کا پورے طور پر خاتمہ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد پہلے خلیفہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انتہائی نازک حالات کے باوجود حضرت اسامہ کے لشکر کورومیوں کی طرف بھیجا۔ یہ مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک عظیم سبق تھا: مسلمانوں کے لیے طاقت آزمائی کا میدان خارجی دنیا ہے، نہ کہ داخلی دنیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہ اہم ترین سبق بعد کے زمانہ میں مسلمان بھول گئے۔ خاص طور پر موجودہ زمانہ میں تو یہ حال ہے کہ مسلم ممالک دو گروہوں (ترقی پسند اور قدامت پسند) میں بٹ کر ایک دوسرے کے حریف بنے ہوئے ہیں۔ ان کی مسلح فوجیں اپنے ہی ملکوں کو ”فتح‘‘ کرنے میں مشغول ہیں، مسلم جماعتیں خود اپنے ملکوں کی حکومتوں سے نبرد آزما ہیں۔ باہر کے حریفوں سے مقابلہ کے لیے ہر ایک عاجز ہے اور اپنے بھائیوں سے لڑنے کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader