Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے ہر ایک بہادر بنا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اگر اسلام کی توسیع و اشاعت کا کام رک جائے تو اس پر تعجب نہ کرنا چاہیے۔ مشہور روایات کے مطابق، کعبہ کی تعمیر چار بار ہوئی ہے۔ پہلی بار جب کہ حضرت ابراہیم نے اپنے صاحب زادہ اسمٰعیل کی مدد سے اسے بنایا۔ دوسری بار اسلام سے پہلے قریش نے بنایا جب کہ بارش کی کثرت سے وہ گر گیا تھا۔ اس تعمیر ثانی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قبل از نبوت شریک تھے۔ قریش نے اس کے طول میں چھ ہاتھ کے بقدر کمی کر دی جہاں اب حطیم واقع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے بارے میں حضرت عائشہ سے فرمایا: لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ، وَلَجَعَلْتُهَا عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ... وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الْأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1333 )۔ یعنی، تمہاری قوم اگر جلد ہی جاہلیت سے نہ نکلی تو میں کعبہ کو دوبارہ ابراہیم کے نقشہ کے مطابق تعمیر کر دیتا اور اس کے دو دروازے بنا دیتا۔ ایک پورب میں، دوسرا پچھم میں۔ تیسری تعمیر 36 ھ میں یزید بن معاویہ کے زمانہ میں ہوئی۔ یزید بن معاویہ کی شامی فوج نے حصین بن نمیر کی قیادت میں عبداللہ بن الزبیر کا مکہ میں محاصرہ کیا اور کعبہ پر منجنیق سے پتھر پھینکے جس کی وجہ سے کعبہ میں آگ لگ گئی اور وہ گر گیا۔ اس کے بعد عبداللہ بن زبیر نے اس کی تعمیر کرائی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ بالا حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے اس کو دوبارہ ابراہیم کے نقشہ پر تعمیر کرایا اور اس میں دو دروازے کھول دیے کہ آدمی ایک دروازے سے داخل ہو اور دوسرے دروازے سے باہر آئے۔ عبداللہ بن زبیر کے قتل کے بعد حجاج نے خلیفہ عبدالملک بن مروان کو صورت حال سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page