اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
باخبر کیا۔ عبد الملک بن مروان نے حکم دیا کہ ہم عبد اللہ بن زبیر کے عمل کے پابند نہیں ہیں۔ تم کعبہ کو دوبارہ سابقہ بنیاد پر تعمیر کراؤ اور وہ دوسرا دروازہ بند کرا دو جو عبد اللہ بن زبیر نے کھولا ہے۔ یہ کعبہ کی چوتھی تعمیر تھی (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1333)۔ خلیفہ ہارون الرشید کا زمانہ آیا تو اس نے ارادہ کیا کہ کعبہ کو پھر سے اس طرح تعمیر کرائے جس طرح عبد اللہ بن زبیر نے تعمیر کرایا تھا۔ اس وقت امام مالک بن انس نے خلیفہ سے کہا: أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْ تَجْعَلَ هَذَا الْبَيْتَ مَلْعَبَةً لِلْمُلُوكِ بَعْدَكَ، لَا يَشَاءُ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنْ يُغَيِّرَهُ إِلَّا غَيَّرَهُ فَتَذْهَبَ هَيْبَتُهُ مِنْ قُلُوبِ النَّاسِ فَصَرَفَهُ عَنْ رَأْيِهِ (الروض الأنف للسهيلي، جلد 2، صفحہ 173)۔ یعنی اے امیر المومنین، میں آپ کو خدا کی قسم دلاتا ہوں کہ اس گھر کو اپنے بعد بادشاہوں کا کھیل نہ بنا دیجیے کہ جو بھی چاہے اس میں تغیر و تبدل کرتا رہے۔ پس اس کی ہیبت لوگوں کے دلوں سے جاتی رہے۔ اس طرح امام مالک نے خلیفہ ہارون رشید کو اس کی رائے پر عمل کرنے سے روک دیا۔ روایات کو توڑے بغیر خاموشی کے ساتھ انقلاب لانا پیغمبرانہ طریق کار کا ایک اہم اصول ہے۔ سماجی زندگی میں روایات کی بے حد اہمیت ہوتی ہے۔ بیشتر لوگ روایات کے سہارے چلتے ہیں۔ روایات اگر اچانک توڑ دی جائیں تو عام لوگوں کے لیے اخلاقیات کا کوئی سہارا باقی نہیں رہتا۔ کسی سماج میں روایات ہمیشہ صدیوں کی تاریخ سے بنتی ہیں۔ کسی نے بجا طور پر کہا ہے کہ ایک چھوٹی سی روایت بنانے کے لیے بہت لمبی تاریخ درکار ہوتی ہے: It requires a lot of history to make a little tradition یہی وجہ ہے کہ پیغمبر تدریجی حکمت کے تحت اصلاح لے آتا ہے نہ کہ پرشور تبدیلیوں کے طریقے سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader