سنتِ رسول
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
سنتِ رسول سنت عربی زبان میں طریقہ کو کہتے ہیں۔ اس سے مراد خدا کا وہ پسندیدہ طریقہ ہے جو رسول کے ذریعہ انسان کو بتایا گیا۔ قرآن میں یہ لفظ شریعت خداوندی کے تمام طریقوں کے لیے آیا ہے۔ اسلامی معاشرت کے احکام بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَاللّٰهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (4:62) ۔ یعنی، اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے بیان کرے اور تم کو ان لوگوں کا طریقہ بتادے جو تم سے پہلے تھے اور تمہارے اوپر توجہ کرے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اللہ نے جب دنیا بنائی تو اسی وقت یہ بھی طے کر دیا کہ اس دنیا کی کارکردگی کے لیے اس کا پسندیدہ طریقہ کیا ہوگا۔ اس طریقہ کو خدا نے بقیہ دنیا میں بزور اس طرح نافذ کر دیا کہ کوئی چیز اس سے ذرا بھی ہٹ نہیں سکتی۔ مگر انسان کو خدا نے اس کا پابند نہیں کیا۔ انسان کو سوچنے اور کرنے کی آزادی دے کر فرمایا کہ تم میں سے جو لوگ اپنی آزاد مرضی سے میرے پسندیدہ طریقہ پر چلیں گے ان کے لیے میرے یہاں جنت کے باغ ہیں اور جو لوگ اس سے انحراف کریں گے ان کے لیے دوزخ کی آگ۔ خدا کے اسی پسندیدہ طریقہ کو انسانوں کے سامنے واضح کرنے کے لیے خدا کے رسول آئے۔ رسول نے زبانی بھی بتایا اور برت کر عملاً بھی دکھا دیا کہ خدا کی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو رسول کی سنت کہا جاتا ہے۔ رسول کی سنت کا تعلق مسواک اور غسل جیسے معاملات سے بھی ہے اور ملی تعمیر اور اجتماعی اصلاح جیسے معاملات سے بھی۔ جولوگ اللہ کے یہاں اس کے مقبول بندوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader