سنتِ رسول
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کے لیے ضروری ہے کہ اپنے تمام معاملات میں رسول کی سنت کی پیروی کریں۔ اپنی زندگی کے کسی معاملہ کو اس سے آزاد یا غیر متعلق نہ سمجھیں۔ رسول کی انفرادی سنتوں میں سے اہم ترین سنت دعوت الی اللہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو صبح وشام سب سے زیادہ فکرجس بات کی ہوتی تھی وہ یہ کہ آپ خدا کے بندوں کو خدا کے دین کی طرف لے آئیں۔ اس معاملہ میں آپ اتنا زیادہ فکرمند رہتے تھے کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا: شاید تم اس غم میں اپنے کو ہلاک کردالو گے کہ لوگ ایمان نہیں لاتے (لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ أَلَّا يَکُونُوا مُؤْمِنِين) 26:3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو میری سنت سے بے رغبت ہو وہ مجھ میں نہیں (فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِی فَلَيْسَ مِنّی) صحیح البخاری، حدیث نمبر 5063۔ اس حدیث کا تعلق جس طرح نکاح اور اس قسم کے دوسرے معاملات سے ہے، ٹھیک اسی طرح دعوت الی اللہ سے بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو اختیار کرنے والا وہی ہے جو دوسری چیزوں کے ساتھ اللہ کی طرف لوگوں کو بلانے کے معاملہ میں بھی آپ کے طریقہ کی پیروی کرے۔ رسول کی اجتماعی سنتوں میں سے ایک سنت تدرّج یا حقیقت پسندی ہے۔ یعنی نظریاتی معیاروں کے نفاذ میں حقیقی حالات وواقعات کی رعایت۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجتماعی اصلاح کے تمام معاملات میں ہمیشہ تدریجی حکمت کے مطابق عمل کیا ہے۔ آج کل کی زبان میں کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا طریقہ انقلابی (Revolutionary) نہیں تھا بلکہ ارتقائی (Evolutionary) تھا۔ حضرت عائشہ ایک روایت میں اسی بات کو اس طرح بتاتی ہیں: إِنَّمَا نُزِلَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنْهُ سُورَةٌ مِنَ المُفَصَّلِ، فِیهَا ذِکْرُ الجَنَّةِ وَالنَّارِ، حَتَّى إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَى الإِسْلَامِ نَزَلَ الحَلَالُ وَالحَرَامُ، وَلَوْ نَزَلَ أَوَّلَ شَيْءٍ: لَا تَشْرَبُوا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader