پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
سے عداوت ہے وُہی تُم پر حُکمرانی کریں گے اور جب کوئی تُم کور گید تا بھی نہ ہوگا تب بھی تُم بھاگوجگے۔ اور اگر اتنی باتوں پر بھی تُم میری نہ سُنو تو میں تُھارے گناہوں کے باعث تُم کو سات گُنی سزا اور دُوں گا۔ اور میں تُھاری شہزوری کے فخر کو توڑ ڈالوں گا اور تُھارے لیے آسمان کو لوہے کی طرح اور زمین کو پیتل کی مانند کردُوں گا۔ اور تُھاری قوّت بے فائدہ صرف ہوگی کیونکہ تُھاری زمین سے کُچھ پیدانہ ہوگا اور میدان کے درخت پھلنے ہی کے نہیں۔ (احبار، 20:16-26) ہماری جدید تاریخ ان الفاظ کے عین مصداق ثابت ہو رہی ہے۔ ہم نے اسلامی خلافت اور عالمی اتحاد کی دھواں دھار تحریکیں چلائیں اور اس کی راہ میں ان گنت قربانیاں دیں۔ مگر جب نتیجہ نکلا تو ساری مسلم دنیا بہت سی قومی حکومتوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ہم نے آزادیٔ وطن کے لیے جہاد کیا مگر جب وطن آزاد ہوا تو عملاً وہ دوسرے فرقوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ ہم نے اسلامی پاکستان وجود میں لانے کے لیے قربانیاں دیں مگر جب اسلامی پاکستان بنا تو وہاں غیر اسلامی لیڈروں کی حکومت قائم تھی۔ ہم نے مصر میں اسلامی اقتدار قائم کرنے کے لیے عظیم الشان تحریک اٹھائی مگر جب مصر کی قسمت کا فیصلہ ہوا تو وہ اسلام پسندوں کے بجائے فوجی حوصلہ مندوں کے ہاتھ میں جا چکا تھا۔ تقریباً ثلث صدی سے فلسطین کی یہودی ریاست کو مٹانے کے لیے جہاد جاری ہے اور مسلمانوں کا جان و مال بے پناہ مقدار میں تباہ ہو رہا ہے مگر عملاً صرف یہ ہوا ہے کہ یہودی ریاست کی قوت اور وسعت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں آخری درد ناک خبر جو بہت جلد مسلمانوں کو سنی ہوگی وہ یہ کہ ایران میں ناقابل بیان قربانیوں کے بعد اسلامی اقتدار لایا گیا مگر یہ اسلامی اقتدار بہت جلد ملحد طاقتوں کا اقتدار قائم کرنے کا ابتدائی زینہ بن گیا۔ یہ موجودہ زمانہ کی پتھر سے بھی زیادہ سنگین حقیقتیں ہیں۔ کوئی شخص یہ کر سکتا ہے کہ اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader