پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
ذہن میں خوش خیالیوں کی ایک دنیا بنا کر اس میں جیتا رہے مگر آئندہ آنے والا مورخ یقیناً ہماری خوش خیالیوں کی تصدیق نہیں کرے گا۔ وہ یہ لکھنے پر مجبور ہوگا کہ فرانس اور روس کے انقلاب میں مرنے والوں کے حصہ میں پھر بھی یہ فائدہ آیا کہ انہوں نے عالمی فکر کا دھارا موڑ دیا۔ اس کے بعد دنیا میں شہنشاہی طرز فکر کے بجائے جمہوری طرز فکر رائج ہو گیا اور سرمایہ دارانہ طریق معیشت پر سوشلسٹ طریق معیشت کو فکری غلبہ حاصل ہو گیا۔ مگر اسلام کے نام پر برباد ہونے والے اگر چہ تعداد میں ان سے بھی زیادہ تھے مگر وہ عالمی فکر پر کسی قسم کا اثر نہ ڈال سکے۔ صدر اول کا اسلامی انقلاب بتاتا ہے کہ اگر ایک ہزار آدمی بھی یہ ثبوت دے دیں کہ وہ خدا کے دین کی خاطر قربانی کی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں تو خدا ان کی قربانی کو قبول کر کے اسلام کو زمین پر غالب کر دیتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں کروڑوں آدمیوں نے قربانی کا ثبوت دیا مگر خدا کی نصرت ان کا ساتھ دینے کے لیے آسمان سے نہیں اتری۔ وہ اس کے باوجود مغلوب ہی بنے رہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہماری یہ تمام قربانیاں حقیقتاً اس صراطِ مستقیم کے مطابق نہ تھیں جس کی پیروی پر خدا نے نصر عزیز اور فتح مبین کا وعدہ فرمایا ہے۔ (الفتح، 3-1: 48) کوئی کسان اگر کہے کہ میں نے گیہوں کے بیج زمین میں ڈالے مگر اس سے گیہوں اگنے کے بجائے جھاڑ جھنکاڑ اُگے تو ایسا کسان جھوٹ بولتا ہے۔ کیونکہ خدا کی اس دنیا میں یہ ممکن ہی نہیں کہ آدمی گیہوں کے بیج بوئے اور اس سے اس کے لیے جھاڑ جھنکاڑ اُگے۔ یہ ناممکن ہے، یہ کروڑ بار ناممکن ہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں ہماری قربانیاں اگر فی الواقع اس راہ پر ہوتیں جس راہ پر رسول اور اصحابِ رسول چلے اور اپنی جانیں دیں تو نا ممکن تھا کہ اتنی غیر معمولی کوششوں کے باوجود اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلے۔ واقعات کا یہ کھلا ہوا فیصلہ ہے۔ اگر اس کے باوجود کوئی آدمی خوش فہمی کے گنبد میں رہنا چاہے تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader