Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

نصرتِ خداوندی

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

دیکھا کہ پادری صاحب اپنے گھر کے سامنے بے چینی کے ساتھ ٹہل رہے ہیں۔ اس نے کہا، آج میں آپ کو غیر معمولی طور پر پریشان دیکھ رہا ہوں، آخر کیا بات ہے۔ پادری صاحب نے جواب دیا۔ میں جلدی میں ہوں مگر خدا جلدی نہیں چاہتا: “I am in hurry, but God doesn't” اس کے بعد پادری صاحب نے درخت کے مذکورہ قصہ کو بتاتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جو واقعات ہوتے ہیں ان میں ایک حصہ خدا کا ہوتا ہے اور ایک حصہ انسان کا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے دو دندانہ دار پہیوں (Cogwheels) کے ملنے سے مشین کا چلنا۔ ایک پہیہ خدا کا ہے، دوسرا پہیہ انسان کا۔ انسان جب خدا کے پہیہ کا ساتھ دیتا ہے تو وہ کامیاب رہتا ہے۔ اس کے برعکس ، اگر وہ خدا کے پہیے کی رفتار کا لحاظ کیے بغیر چلنا چاہے تو وہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ خدا کا پہیہ مضبوط ہے اور انسان کا پہیہ کمزور۔ خدا نے کروروں سال کے عمل سے زمین کے اوپر زرخیز مٹی کی تہ بچھائی جس کے اوپر کوئی درخت اُگے ۔ سورج کے ذریعہ اوپر سے ضروری حرارت بھیجی۔ آفاقی اہتمام کے تحت پانی مہیا فرمایا۔ موسموں کی تبدیلی کے ذریعہ اس کی پرورش کا انتظام کیا۔ کھرپ ہاکھرپ کی تعداد میں بیکٹیریا پیدا کیے جو درخت کی جڑوں کو نائٹروجن کی غذا فراہم کریں۔ یہ تمام انتظام گویا خدا کا دندانہ دار پہیہ (cogwheel) ہے۔ اب انسان کو اس میں اپنا دندانہ دار پہیہ ملانا ہے تا کہ مذکورہ مواقع اس کے لیے درخت کی صورت اختیار کر سکیں ۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایک بیج لے اور اس کو زمین میں دبا دے۔ اگر وہ ایسا کرے تو گویا اس نے خدا کے کاگ میں اپنے کاگ کو ملایا۔ اس کے بعد فطرت کی مشین چلنا شروع ہو جائے گی اور وقت پر اپنا نتیجہ دکھائے گی۔ اس کے برعکس ، اگر انسان اپنا یہ بیج پتھر پر ڈال دے، یا بیج کے بجائے اس کے ہم شکل پلاسٹک کے دانے زمین میں بوئے، یا وہ ایسا کرے کہ بیج بونے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page