پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بجائے پورا درخت اکھاڑ کر لائے اور اس کو اپنی زمین میں اچانک کھڑا کرنا چاہے تو گویا اس نے اپنا پہیہ خدا کے پہیے میں نہیں ملایا، اس نے اپنے آپ کو خدا کے منصوبے میں شامل نہیں کیا۔ ایسے آدمی کے لیے اس دنیا میں ہرے بھرے درخت کا مالک بننا مقدر نہیں۔ یہی معاملہ اسلامی انقلاب کا بھی ہے۔ وہ بھی خدا کے پیدا کردہ مواقع کو سمجھنے اور ان کو استعمال کرنے سے ظہور میں آتا ہے، نہ کہ خود ساختہ قسم کی اچھل کود مچانے سے۔ صدر اوّل میں جو انقلاب آیا وہ اس لیے آیا کہ خدا کے کچھ بندوں نے اپنا پہیہ خدا کے پہیے میں ملا دیا۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانہ میں ہماری تمام قربانیاں اس لیے رائیگاں چلی گئیں کہ ہم نے خدائی منصوبہ کے ساتھ موافقہ نہیں کی بلکہ خود ساختہ راہوں میں غیر متعلق قسم کی ہنگامہ آرائیاں کرتے رہے۔ دین توحید اور دین شرک قرآن کے اشارات (البقرہ، 2:213) سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کے بعد جب انسان زمین پر آباد ہوا تو سب کا دین توحید تھا۔ یہ صورت چند سو سال تک جاری رہی۔ اس کے بعد لوگوں کے اندر مظاہر پرستی کا آغاز ہوا جس کا دوسرا نام شرک ہے۔ دکھائی نہ دینے والے خدا کو اپنا مرکزِ توجہ بنانا انسان کے لیے مشکل تھا، چنانچہ اس نے عقیدۂ خدا کو مانتے ہوئے یہ کیا کہ دکھائی دینے والی چیزوں کو اپنا مرکزِ توجہ بنا لیا۔ یہی وہ دور ہے جب کہ سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش شروع ہوئی۔ پہاڑوں اور سمندروں کو دیوتا سمجھ لیا گیا۔ حتیٰ کہ انسانوں میں سے جس کے پاس عظمت واقتدار نظر آیا اس کو بھی خدا کا شریک فرض کر لیا گیا۔ اس طرح تقریباً ایک ہزار سال بعد وہ وقت آیا جب کہ توحید کا فکری غلبہ ختم ہو گیا، اور انسانی ذہن پر دین شرک غالب آگیا۔ ابتدائی دین توحید میں اس بگاڑ کے بعد خدا نے اپنے پیغمبر بھیجنے شروع کیے ۔ مگر ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader