Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

دینِ توحید اور دینِ شرک

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبروں کو کبھی مقبولیت حاصل نہ ہوسکی کہ دین شرک کو مٹا کر دوبارہ دین توحید کو غالب اور سر بلند کرتے۔ انسانی نسل اس زمانہ میں جن جن مقامات پر پھیلی تھی، ہر مقام پر خدا کے پیغمبر لگاتار آتے رہے (المومنون، 44: 23)۔ ایک حدیث کے مطابق ان پیغمبروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی (مسند احمد، حدیث نمبر 22288)۔ مگر تمام پیغمبروں کا یہ حال ہوا کہ ان کو استہزاء کا موضوع بنا لیا گیا (یس، 36:30)۔ جب آدمی سچائی کا انکار کرتا ہے، بلکہ اس کا مذاق اڑانے پر اتر آتا ہے تو یہ خواہ مخواہ نہیں ہوتا۔ ایسا رویہ آدمی ہمیشہ کسی چیز کے بل پر اختیار کرتا ہے۔ اس کے پاس کوئی ناز ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ حق سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ یہ کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمۡ مِنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِءُوْنَ (40:83)۔ یعنی، جب ان کے پاس ان کے رسول دلائل لے کر آئے تو وہ اس علم پر مگن رہے جو ان کے پاس تھا اور ان کو گھیر لیا اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ یہاں ”علم“ سے مراد وہ بگڑا ہوا مذہب ہے جو زمانہ گزرنے کے بعد ان قوموں کے نزدیک مقدس بن گیا تھا۔ اس قسم کا آبائی مذہب ہمیشہ ایک قائم شدہ مذہب ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ مانے ہوئے بزرگوں کے نام وابستہ ہوتے ہیں۔ اس کے اوپر بڑے بڑے ادارے چل رہے ہوتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر ان کا پورا قومی ڈھانچہ کھڑا ہوا ہوتا ہے۔ اس کو لمبی روایات کے نتیجہ میں عظمت کا سب سے اونچا مقام مل چکا ہوتا ہے۔ ان قوموں کے پاس ایک طرف ان کا یہ مسلمہ مذہب تھا جو شرک کی بنیاد پر قائم تھا۔ دوسری طرف پیغمبر ایک ایسی توحید کی آواز بلند کرتا جو وقت کے ماحول میں اجنبی ہوتی تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page