Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرِ انقلاب

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا داعی حق ہونا ایک ایسے دعویٰ کی حیثیت رکھتا تھا جس کی پشت پر ابھی تاریخ کی تصدیقات جمع نہیں ہوئی ہیں۔ اس کے پاس اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے لفظی دلیل کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اس تقابل میں انہیں وقت کا پیغمبر واضح طور پر حقیر نظر آتا اور ان کا اپنا آبائی مذہب واضح طور پر عظیم۔ حضرت مسیح بے گھر تھے اور درخت کے نیچے سوتے تھے۔ دوسری طرف یہودیوں کا مذہبی سردار ہیکل کی عظیم عمارت میں جلوہ افروز تھا۔ پھر ہیکل کے صدرنشین کے مقابلہ میں درخت کے نیچے سونے والا لوگوں کو زیادہ برسر حق کیسے نظر آتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قومیں اپنے معاصر پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بناتی رہیں۔ اس استہزاء پر جو چیز انہیں آمادہ کرتی وہ ان کا یہ احساس تھا کہ ہم تو مسلمہ اکابر کا دامن تھامے ہوئے ہیں، پھر ان کے مقابلہ میں اس معمولی آدمی کی کیا حیثیت۔ اکابر کی اس فہرست میں اگرچہ قدیم انبیاء تک ہوتے تھے۔ مگر ان انبیاء کی حیثیت عملاً ان کے یہاں ایک قسم کے قومی ہیرو کی تھی نہ کہ فی الواقع داعی حق کی۔ اعلاء کلمۃ اللہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ سڑکوں کے چوراہے پر کھمبا لگا ہوتا ہے جس میں ہری اور لال روشنیاں ہوتی ہیں۔ جس رخ پر ہری روشنی ہو ادھر سواریوں کو جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ اور جس رخ پر لال روشنی ہو رہی ہو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ادھر سواریاں نہ جائیں۔ اگر کوئی سواری اس نشان دہی کی خلاف ورزی کرے تو وہ ٹریفک قوانین کے مطابق قابل سزا قرار پاتی ہے۔ داعی حق کی حیثیت اصلاً اسی قسم کے رہنما کھمبا کی ہے۔ وہ خدا کی طرف سے مقرر کیا جاتا ہے کہ زندگی کے راستوں پر کھڑا ہو کر لوگوں کو بتائے کہ وہ کدھر جائیں اور کدھر نہ جائیں۔ کون سا راستہ جنت کی طرف جا رہا ہے اور کون سا جہنم کی طرف۔ قرآن کی اس آیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page