Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اعلاء کلمۃ اللہ

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (2:143) ۔ یعنی ، اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تا کہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔ ابتدائی دور توحید کے بعد غلبہ شرک کے زمانے میں خدا کی طرف سے جو رسول آئے وہ اسی خاص مقصد کے لیے آئے ۔ ان کو خدا نے حقیقت کا صحیح علم دے کر کھڑا کیا کہ وہ قوموں کی رہنمائی کریں اور ان کو یہ بتائیں کہ دنیا کی زندگی میں ان کے لیے صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ ہر نبی نے اپنی اس ذمہ داری کو پوری طرح انجام دیا۔ انہوں نے ان کی قابل فہم زبان میں دلائل کی پوری قوت کے ساتھ لوگوں کے سامنے حق کو پیش کیا اور مسلسل اتنی وضاحت کی کہ ان کے مخاطبین کے سامنے اتمام حجت کی حد تک خدا کا پیغام پہنچ گیا۔ پھر جس نے رسول کا ساتھ دیا وہ خدا کے نزدیک جنتی ٹھیرا ، جس نے رسول کو نہ مانا وہ سرکش اور باغی قرار دے کر جہنم میں ڈال دیا گیا۔ تاہم اللہ تعالیٰ کو حق کے اعلان کے ساتھ یہ بھی مطلوب تھا کہ دوبارہ حق کا اظہار ہو۔ حق کا اعلان تو یہ ہے کہ لوگوں کو حق کے بارے میں پوری طرح بتا دیا جائے۔ خیر خواہی اور حکمت کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کو اس طرح کھول دیا جائے کہ سننے والوں کے لیے یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہم اس سے بے خبر تھے۔ ہم یہ جانتے ہی نہ تھے کہ زندگی میں کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔ اسی کا نام اتمام حجت ہے۔ اظہار اس سے آگے کی چیز ہے۔ اظہار کا مطلب یہ ہے کہ دینی فکر دنیا کا غالب فکر بن جائے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرے افکار پست اور مغلوب ہو کر رہ جائیں ۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اعلاء کلمۃ اللہ کہا گیا ہے۔ اظہار دین یا اعلاء کلمۃ اللہ سے مراد اصلاً حدود و قوانین کا نفاذ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد فکری غلبہ ہے۔ یعنی اسی قسم کا غلبہ جیسا غلبہ موجودہ زمانہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page